بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

میت کا چہرہ دیکھنے،تعزیت اور میت کے گھر والوں کو کھانا کھلانے کا حکم


سوال

(1) اگر کوئی شخص فوت ہوجائے تو اس کا چہرہ دیکھنا صحیح ہے یا نہیں؟ (2) میت کے ورثاء تعزیت کے لیے کتنے دن بیٹھ سکتے ہیں؟(3)صرف میت کے ورثاء تعزیت کے لیے بیٹھ سکتے ہیں یا اور لوگ بھی؟(4)میت کےورثاء کو کتنے دن تک کھانا کھلایا جاسکتاہے اور کن لوگوں کو کھانا چاہیے؟(5) میت کے ورثاء تیسرے دن بہت سے لوگوں کو بلا کر کسی عالم سے بیان کرواتے ہیں ، پھر اجتماعی دعاء ہوتی ہے اور میت والے سب کو کھانا کھلاتے ہیں ایساکرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

(1)  واضح رہےکہ میت  کی تدفین میں تاخیر سے حدیث شریف میں منع کیا گیا ہے، نیز نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو جلد دفن کرنے کا حکم بھی حدیث مبارک میں وارد ہے، لہٰذا نمازِ جنازہ کے بعد   چہرہ دکھانا قلیل تاخیر کو مستلزم ہونے کی وجہ سے بہتر نہیں ہے،  تاہم اس سے پہلے میت کا چہرہ دیکھنے اور دکھانے میں کوئی حرج نہیں۔

(2۔3) تین دن تک میت کے لواحقین  کا  تعزیت کے لیے بیٹھنے کی گنجائش ہے ،البتہ اسے لازم سمجھنا صحیح نہیں ہےاور تین دن کے بعد تعزیت کرنا مکروہ ہے البتہ  جو لوگ دور سے آنے والے ہوں یا اس موقع پر حاضر نہیں ہوسکتے سفر وغیرہ کی وجہ سے تو وہ تین دن کے بعد بھی تعزیت کرسکتے ہیں،نیز تعزیت کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کیاجائے کہ جس میں دوسرے لوگوں کو تکلیف نہ ہو ،اسی طرح مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنا مکروہ ہے،تعزیت کے لیے میت کے اہل خانہ بیٹھ سکتے ہیں دوسرے لوگوں کا ایک مرتبہ تعزیت کرکے دوبارہ وہاں جاکر بیٹھنا مکروہ ہے۔

(4)جس گھر میں میت ہوجائے ان کے پڑوسیوں اور رشتے داروں کے لیے مستحب اور باعث اجر و ثواب ہے کہ میت کے گھر والوں کے لیے اس دن (دو وقت) کے کھانے کا انتظام کریں اور خود ساتھ بیٹھ کر، اصرار کر کے ان کو کھلائیں،اور ضرورت ہو تو تین دن تک کھانا کھلانا بھی جائز ہے، اہلِ میت کو یہ کھانا کھلانا اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ میت کے گھر میں یا میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانا ممنوع ہے، بلکہ اس وجہ سے   ہوتا ہے کہ غم و حزن اور تجہیز و تکفین کی مشغولیت کی وجہ سے ان کو کھانا پکانے کا موقع نہیں ملے گا، لہٰذا اگر میت کے گھر والے خود اپنے لیے اسی دن کھانا بنائیں تو اس کی اجازت ہے۔

                لیکن یہ کھانا صرف میت کے گھر والوں کے لیے ہے ،اور جو مسافر دور سے آئے ہوں، جن کے  لیے اس دن یا ایک دو دن تک واپس لوٹنا ممکن نہ ہو، اور کھانے کا متبادل انتظام نہ ہو، ان کے لیے اس کھانے میں سے کھانے کی اجازت ہوگی،یہ نہیں کہ تمام برادری اور قوم کو کھلایا جائے، کیوں کہ قریب  تعزیت  پر آنے والوں کو اپنے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہیے۔

(5) میت کے تیسرے دن کسی عالم سے بیان اوراجتماعی  دعاء کروا کے تمام لوگوں کو کھانا کھلانا یہ قرآن وحدیث اور خیرالقرون  میں کسی  سے ثابت نہیں ہے،بلکہ یہ بدعت ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ويسرع في جهازه)؛ لما رواه أبو داود «عنه صلى الله عليه وسلم لما عاد طلحة بن البراء وانصرف، قال: ما أرى طلحة إلا قد حدث فيه الموت، فإذا مات فآذنوني حتى أصلي عليه، وعجلوا به؛ فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله».  والصارف عن وجوب التعجيل الاحتياط للروح الشريفة؛ فإنه يحتمل الإغماء". 

(کتاب الصلاة ،باب صلاة الجنازۃ ج:2،ص: 193 ، ط: سعید)

حاشیۃ السندی علیٰ سنن ابن ماجۃ میں ہے:

"عن أنس بن مالك قال «لما قبض إبراهيم ابن النبي صلى الله عليه وسلم قال لهم النبي صلى الله عليه وسلم لا تدرجوه في أكفانه حتى أنظر إليه فأتاه فانكب عليه وبكى»

قوله: (لا تدرجوه) من الإدراج أي لا تدخلوه والحديث يدل على أن من يريد النظر فلينظر إليه قبل الإدراج فيؤخذ منه أن النظر بعد ذلك لا يحسن ويحتمل أنه قال ذلك لأن النظر بعده يحتاج إلى مؤنة الكشف"

(كتاب الجنائز،باب ماجاء في النظر الي الميت  ج:1ص ،450 ط:دارالجيل)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال :قبر کے اندر یا قبر کے باہر قبرستان میں مردہ کا چہرہ دکھلانا کیساہے ؟شرع میں اس کی کیا اصلیت ہے؟

جواب:شرع میں اس کی کوئی اصل نہیں،یہ اہتمام کہ بعض جگہ قبر میں رکھنے کے بعد کفن کھول کرچہرہ دکھلایا جاتا ہے،بے اصل ہے،شریعت میں اس کی کوئی تاکید نہیں،کفن کا بندلگادینے کے بعد چہرہ کھولنا مناسب نہیں،بسا اوقات آثار برزخ شروع ہوجاتے ہیں  جن کا اخفاء مقصودہے۔"

(فتاوی محمودیہ ،باب الجنائز ج:9،ص:79،ط:جامعہ فاروقیہ)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"(سوال ۱۱۸)ہمارے یہاں  نماز جنازہ کے بعد حاضرین کو میت کا منہ دکھلایا جاتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ بینواتوجروا۔

(الجواب) یہ رسم غیر ضروری اور مکروہ ہے کہ موجب تاخیر ہے حالانکہ تعجیل ماموربہ ہے ، اسی لئے جنازہ لے جاتے وقت تیز چلنے کا حکم حدیث میں  ہے ۔"

(فتاوی رحیمیہ ،کتاب الجنائز ج:7ص:127ط:دارالاشاعت)

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

"(سوال ۳۱۰۱) فاتحہ خوانی اور تعزیت کتنے دن تک کن لفظوں سے مسنون ہے ؟ ماتم والوں کے گھر پر یا مسجد میں ۔

(الجواب ) تعزیت تین دن تک ہے اس کے بعد مکروہ ہے مگر جو شخص اس وقت نہ ہو وہ بعد میں کرسکتا ہے، تعزیت میں تسلی کے کلمات ہوں یعنی اس قسم کے کہ صبر کرو اﷲ تم کو اس صبر کا اجردے گا وغیرہ ،اور تعزیت کے لیے مسجد میں بیٹھنا مکروہ ہے بلکہ گھر پر ہو ۔"

(فتاوی دارلعلوم دیوبند ،کتاب الجنائز ج:5ص:283 ط:دارالاشاعت)

 فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ألتعزیة لصاحب المصیبة حسن ……ووقتھا من حین یموت إلی ثلاثة أیام ویکرہ بعدھا ……ویستحب أن یقال لصاحب التعزیة: غفر الله تعالی لمیتك وتجاوز عنه وتغمدہ برحمته ورزقك الصبر علی مصیبته و أجرك علی موته ……ولابأس لأھل المصیبة أن یجلسوا فی البیت أو في المسجد ثلاثة أیام والناس یأتونھم ویعزونھم۔۔۔ولابأس بأن یتخذ لأھل المیت طعام ، کذا فی التبیین ولایباح إتخاذ الضیافة عند ثلاثة أیام۔"

(كتاب الصلاة ،الباب الحادي والعشرون في الجنائز  ج: 1، ص: 167،ط:رشيديه )

فتاوی شامی میں ہے:

"وبتعزیة أھله وترغیبہم فی الصبر ……وبالجلوس لھا فی غیر مسجد ثلاثة أیام و أولھا أفضل وتکرہ بعدھا ……ویقول أعظم الله أجرك و أحسن عزاءك  وغفر لمیتك۔

وفی الشامیة : (و بالجلوس لھا ) أی للتعزیة و إستعمال لابأس ھنا علی حقیقته لأنه خلاف الأولی …وفي الإحکام عن خزانة الفتاوی: ألجلوس في المصیبة ثلاثة أیام  جاء ت الرخصة فیه۔ "       

 (كتاب الصلاة ،باب صلاة الجنازة ج:2، ص: 239 ،ط:سعيد)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"والمعنى: جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم، فيحصل لهم الضرر وهم لايشعرون. قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لايستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر من أن يلح عليهم في الأكل لئلايضعفوا بتركه استحياء، أو لفرط جزع، واصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم ؛ لأنه إعانة على المعصية، واصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة، بل صح عن جرير رضي الله عنه: كنا نعده من النياحة، وهو ظاهر في التحريم. قال الغزالي: ويكره الأكل منه، قلت: وهذا إذا لم يكن من مال اليتيم أو الغائب، وإلا فهو حرام بلا خلاف". 

(کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت،الفصل الثاني،ج:4 ،ص :194 ،ط: رشیدیه) 

  فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح: ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم». حسنه الترمذي وصححه الحاكم؛ ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ.

(كتاب الصلاة ،باب صلاة الجنازة ج:2،ص:240 ،ط:سعيد)

فتح القدیر میں ہے:

"ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. روى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة. ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم». حسنه الترمذي وصححه الحاكم؛ ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون، والله أعلم".

(کتاب الصلاة، قبیل باب الشهید، ج:2 ،ص:102 ، ط: رشیدیه)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144305100283

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں