بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

میت کے لیے چالیسواں تیجہ وغیرہ کرنا اور اس میں کھانے کا حکم


سوال

 اگر کوئی وفات پا جائے تو اس کے بعد تیسرا کرنا، چالیسواں کرنا، سال کرنا،  اس قسم  کی خیرات میں شریک ہونا اور کھانا کیسا ہے؟ جب کہ ہمارے ہاں ایک مہینے تک ہر جمعہ بھی خیرات کرتےہیں، اس کا کھانا کیسا ہے ؟

جواب

کسی میّت کے ایصالِ ثواب کے  لیے سوئم، چالیسواں یا کوئی بھی وقت، دن یا کیفیت کا مخصوص کرناشریعت میں ثابت نہیں؛لہٰذا یہ بدعت  ہے؛ کیوں کہ ثواب سمجھ کر اس کا اہتمام کیا جاتاہے۔

مسلمان کا  فرض ہے کہ غمی ہو یا خوشی کسی حال میں بھی دین کے احکامات سے رو گردانی نہ کرے، بلکہ ہر خوشی و غم کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے حکم کو سامنے رکھ کر اس پر چلنے کی پوری کوشش کرے۔

غم کے موقع پر غیر شرعی رسومات و بدعات (مثلاً: تیجہ، چالیسواں، اجرت کے عوض تلاوتِ قرآن پاک ، نوحہ وغیرہ)   ناجائز ہیں،میت کے لیے  ایصالِ ثواب تو  ہر وقت ، ہر موقعہ پر کرنا جائز ہے، اور میت کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے،  اس لیے گھر میں ہی جو افراد اتفاقًا جمع ہوں اور اعلان و دعوت کے بغیر اپنی خوشی سے کچھ پڑھ لیں، دن وغیرہ کی کوئی تخصیص نہ ہو، اور قرآن پڑھنے کے عوض اجرت کا لین دین نہ ہو تو اس کی اجازت ہے،  لیکن اس کے لیے تیسرے دن، اور چالیسویں دن ،اور سال کی تخصیص کرنا شرعاً  ثابت نہیں ہے، نیز موجودہ زمانہ میں تیجہ ، چالیسواں اور برسی یا عرس میں اور بھی کئی مفاسد پائے جاتے ہیں، اور اسی ضروری سمجھا جاتاہے، شرکت نہ کرنے والوں کو طعن وتشنیع کا سامنا کرنا پڑتاہے؛ لہذا  یہ بدعت ہے اور ناجائز ہے،   ایسی تقریبات میں شرکت کرنا اور  کھانا  کھانا بھی ناجائز  ہے۔ اگر کسی نے اس تقریب میں شرکت نہ کی ہو، اور اجرت پر تلاوت بھی نہ کی ہو، اسے یہ کھانا دے دیا جائے تو اس کے لیے یہ کھانا ناجائز نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"یکره اتخاذ الضیافة من الطعام من أهل المیت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة، وقوله: ویکره اتخاذ الطعام في الیوم الأول والثالث وبعد الأسبوع، ونقل الطعام إلی القبرفي المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقرّآء للختم أو لقراء ة سورة الإنعام أوالإخلاص".

(ردالمحتار على الدر المختار ، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة، مطلب في كراهة الضیافة من أهل المیت، کراچی ۲/۲۴۰)

وفیہ ایضا:

ومنها: الوصیة من المیت باتخاذ الطعام والضیافة یوم موته أو بعده و بإعطاء دراهم  من یتلو القرآن لروحه أو یسبح و یهلل له، وکلها بدع منکرات باطلة، والماخوذ منها حرام للاٰخذ، وهو عاص بالتلاوة والذکر".

(رد المحتار مع الدر المختار :۶/۳۳ ط: سعید، کراچی)

الاعتصام للشاطبي (ص: 112):

"وعن أبي قلابة: " لاتجالسوا أهل الأهواء، ولاتجادلوهم; فإني لاآمن أن يغمسوكم في ضلالتهم، ويلبسوا عليكم ما كنتم تعرفون". قال أيوب: "وكان والله من الفقهاء ذوي الألباب". وعنه أيضاً: أنه كان يقول: "إن أهل الأهواء أهل ضلالة، ولاأرى مصيرهم إلا إلى النار". وعن الحسن: " لاتجالس صاحب بدعة فإنه يمرض قلبك".

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207201162

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں