بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حدیث جب میت کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اسے سورج ایسے دکھایا جاتا ہے جیسے وہ قریب الغروب ہو کی تحقیق وتخریج


سوال

کیایہ حدیث شریف موجودہےکہ نمازی آدمی اپنی قبر میں نماز عصراداکرےگا،وہ فرشتوں سےکہےگاکہ ٹھہرو مجھےنمازعصرپڑھ لینےدوپھرمیں تمہارےسوالوں کے جواب دیتاہوں۔

یہ حدیث اور اس کا حوالہ  جانناچاہتا ہوں۔

جواب

مذکورہ روایت کا مضمون احادیث مبارکہ میں وارد ہوا ہے، البتہ ان احادیث  میں نماز عصرپڑھنے  کی صراحت نہیں ہے، بلکہ احادیث مبارکہ میں میت کو سورج کے غروب کے   قریب ہونے کی حالت کے دکھائے جانے کا تذکرہ ہے، تفصیل کے لیے احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں : 

یہ روایت دو صحابه سےمنقول ہوئی ہے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مختصرا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے طویل روایت کے ضمن میں  ۔    

(1) حديث جابر رضی اللہ عنہ :

"(۱) عن جابر عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إذا دخل الميت القبر مُثِّلَتْ له الشمس عند غروبها، فيجلس يمسح عينيه، ويقول: دعوني أصلي".

"ترجمه:سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”جب میت کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اسے سورج ایسے دکھایا جاتا ہے جیسے وہ  غروب کے قریب ہو، پس وہ بیٹھ جاتا ہے اور اپنی آنکھیں ملتے ہوئے کہتا ہے: مجھے چھوڑ دو ،میں نماز پڑھ لوں۔ "

(سنن ابن ماجه،بَابُ ذِكْرِ الْقَبْرِ وَالْبِلَى،(5/ 337) برقم (4272 )، ط/دار الرسالة العالمية)

تخریج حدیث:

"(1) السُّنة لابن أبي عاصم(المتوفى: 287هـ)، باب في القبر وعذاب القبر،(2/  419) برقم (867)، ط/ المكتب الإسلامي - بيروت."

"(2) صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان (المتوفى: 354هـ)، ذكر الإخبار بأن المسلم في قبره عند السؤال يمثل له النهار عند مغيربان الشمس، (7/ 385) برقم (3116)، ط/مؤسسة الرسالة - بيروت."

حكم حديث:

"علامه  بوصيري  رحمه الله  (المتوفى: 840ھ) فرماتے ہیں : 

 "هذا إسناد حسن إن كان أبو سفيان واسمه طلحة بن نافع سمع من جابر بن عبد الله، وإسماعيل بن حفص مختلف فيه" . 

يعني  يه روايت حسن درجه کی ہے اگر (راوی)ابو سفیان جن کا نام طلحۃ بن نافع ہےنے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہو، اور (اس کے راوی ) اسماعیل بن حفص مختلف فیہ ہیں ۔"

(مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه، باب ذكر القبر والبلى، (4/ 252)، ط/دار العربية - بيروت)

"يعني علامه بوصيري رحمه الله كے مطابق اس روایت کا حسن ہونا ابو سفيان طلحة بن نافع كے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماع کے ثبوت پر موقوف ہے، لہذا ان کے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماع سے متعلق ثبوت ملاحظہ فرمائیں:  

ابو سفيان طلحة بن نافع كے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماع کا ثبوت:

ابو حاتم رحمه الله (المتوفى:277ھ)فرماتے ہیں:

جالس سليمان اليشكرى جابرا، فسمع منه، وكتب عنه صحيفة، فتوفى، وبقيت الصحيفة عند امرأته، فروى أبو الزبير وابو سفيان والشعبى عن جابر، وهمقد سمعوا من جابر، واكثره من الصحيفة، وكذلك قتادة.

یعنی ابو حاتم رحمه الله فرماتے ہیں کہ سلیمان یشکری حضرت جابر کے پاس بیٹھے ، ان سے سماع کیا، او رانہی سے ایک صحیفہ احادیث لکھا،     پھر آپ فوت ہوگئے، او روہ صحیفہ ان کی اہلیہ کے پاس باقی رہا، پس پھر ابو زبیر ،ابو سفیان ،اور  شعبی رحمہم اللہ  نے حضرت جابر  رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ،جبکہ ان حضرات نے خود حضرت جابر رضی اللہ عنہ  سے سماع بھی کر رکھا تھا،  لیکن ان کی روایات کا اکثر حصہ سلیمان یشکری رحمہ اللہ کے صحیفہ ہی سے تھا۔

( الجرح والتعديل لابى محمد عبد الرحمن بن ابى حاتم، ترجمة سلیمان بن قیس الیشکری،(4/ 136) رقم الترجمة (596 )، ط/ دار إحياء التراث العربي - بيروت)

اور علامہ علامه بوصيري رحمه الله  نے جو  فرمایا کہ اس کے راوی  اسماعیل بن حفص مختلف فیہ ہیں تو ان کی ثقاہت سے متعلق اقوال ملاحظہ فرمائیں : 

(1) ابن حبان رحمه الله (المتوفى: 354ھ) نے انہیں اپنی کتاب ’’الثقات‘‘ میں ذکر  کرکے ان کی توثیق فرمائی ہے۔

(الثقات لابن حبان (8/ 102) رقم الترجمة (12435)، ط/ دار الفكر)

(2) علامه مغلطائي رحمه الله (المتوفى: 762 ھ) فرماتے ہیں : 

"وقال مسلمة بن قاسم في كتاب «الصلة»: لا بأس به ...وقال ابن خلفون عن النسائي: أرجو أن لا يكون به بأس".

مسلمة بن قاسم نے کتاب    ’’الصلۃ‘‘ میں فرمایا ہے کہ ان سے کوئی حرج نہیں ہے، اور ابن خلفون نے نسائی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا ہےکہ امید یہی ہے کہ ان سے کوئی حرج نہیں ہے۔"

(إكمال تهذيب الكمال (2/ 161) رقم الترجمة (475)، ط/ الفاروق الحديثة للطباعة والنشر)

(2) حديث ابوہریرۃ  رضی اللہ عنہ میں طویل روایت  کے ضمن میں  مذکورہ روایت سے متعلقہ مضمون بھی وارد ہوا ہے ، ملاحظہ فرمائیں : 

"فَيُقَالُ لَهُ: اجْلِسْ فَيَجْلِسُ، قَدْ مُثِّلَتْ لَهُ الشَّمْسُ قَدْ دَنَتْ لِلْغُرُوبِ، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَا تَقُولُ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: دَعُونِي أُصَلِّي". (اللفظ للبيهقي في إثبات عذاب القبر)

تخریج حدیث:

"(1) مصنف عبد الرزاق (المتوفى: 211هـ) (3/ 567) برقم (6703) ط/  المكتب الإسلامي - بيروت. 

(2) مصنف ابن أبي شيبة (المتوفى: 235هـ) (7/ 473 و474) برقم (12188)، ط/ دار القبلة للثقافة الإسلامية. 

(3) الزهد لهناد بن السري(المتوفى: 243هـ) (1/ 204) برقم (338)، ط/ دار الخلفاء للكتاب الإسلامي - الكويت.

(4) حديث هشام بن عمار (المتوفى: 245هـ) (ص: 50) برقم (6)، ط/دار إشبيليا - السعودية. 

(5) تهذيب الآثار للطبري (المتوفى: 310هـ) (2/ 506) برقم (728)، ط/ مطبعة المدني - القاهرة.

(6) السنة لابي بكر بن الخلال (المتوفى: 311هـ) (4/ 64) برقم (1176)، ط/ دار الراية - الرياض. 

(7) المعجم الٲوسط للطبرانی(المتوفى: 360هـ) (3/ 105) برقم (2630)، ط/ دار الحرمين - القاهرة. 

(8) صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان (المتوفى: 354هـ)، ذكر الإخبار بأن المسلم في قبره عند السؤال يمثل له النهار عند مغيربان الشمس، (7/  380 و381) برقم (3113)، ط/مؤسسة الرسالة - بيروت.

(9) المستدرك على الصحيحين للحاكم  (المتوفى: 405هـ)، كتاب الجنائز، الميت يسمع خفق نعالهم، (1/ 535 و536) برقم (1403 و1404)، ط/ دار الكتب العلمية - بيروت."

حكم حديث: 

امام حاكم رحمه الله نے  اس روایت کو  محمد بن عمرو بن علقمۃ رحمہ اللہ  سے دو طریق   سےنقل فرمایا ہے،(۱)طريق  سعيد بن عامر(۲) طريق حماد بن سلمة  رحمہم اللہ  ، اور پھر فرمایا ہے کہ : 

"ثم ذكر الحديث بنحوه، إلا أن حديث سعيد بن عامر أتمّ، هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه". 

يعني  حماد بن سلمۃ  رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت  سعید بن عامر رحمہ اللہ کی طرح ہی نقل فرمائی ہے، البتہ سعید بن عامر رحمہ اللہ کی حدیث  زیادہ مکمل معلوم ہوتی ہے،  يه روايت صحیح ہے  امام مسلم كي شرط پر، اور بخاری ومسلم رحمہما اللہ نے اسے نقل نہیں فرمایا۔ 

فقط والله علم 


فتوی نمبر : 144410100664

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں