بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 صفر 1444ھ 24 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

میت کمیٹی کا حکم اور فنڈ میں جمع شدہ رقم کی حیثیت و زکوۃ اور فنڈ کی رقم کاروبار میں لگانے کا حکم


سوال

(1):میت کے کفن دفن کے انتظامات کے لیے انجمن قائم کرنا شرعاً کیساہے؟ چونکہ ہماری برادری ایک غریب طبقہ ہے، اور مہنگائی کا دور دورہ ہے، ایسے حالات میں ایک غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا مشکل ہے، چہ جائیکہ وہ اپنی میت کے کفن دفن کے انتظامات بھی کرے، اور مہنگائی کے اس دور میں ادھار لینا بھی  زیادہ مشکل امر بن گیاہے، لہٰذا ایسے حالات میں ایک ایسے انجمن کے قیام کی ضرورت محسوس ہوئی جو لوگوں کو کسی بھی وقت باآسانی سہولیات اور ضروریات فراہم کرسکے، اس ضرورت کے پیشِ نظر کیا یہ انجمن قائم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر ناجائز ہو تو اس کا متبادل حل کی طرف راہنمائی فرمادیں۔

(2):کسی ممبر کے ہاں فوتگی ہونے کی صورت میں انجمن اس کو مقرر شدہ رقم کے علاوہ کوئی چیز دینے کا پابند نہیں ہوگا، کیا یہ صورت جائز ہے؟

(3):ممبر جو داخلہ فیس اور ماہانہ رقم انجمن کو دے گا، اس کی حیثیت اور زکوۃ سے متعلق کیا حکم ہے؟

(4):فنڈ میں جورقم ہوگی، کیا اس سے کاروبار کرنا جائزہے؟ جب کہ اس کا نفع فنڈ میں جمع کیا جائے۔

جواب

واضح رہے کہ آج کل مختلف مقامات پر خاندان اور برادری میں میت کمیٹیاں بنانے کا رواج چل پڑا ہے، عام طور پر یہ کمیٹیاں دو طرح کے اخراجات برداشت کرتی ہیں:

1:کفن و دفن کے اخراجات، یعنی کفن، قبرستان تک لے جانے کے لیے گاڑی اور قبر وغیرہ کا خرچہ۔

2:میت کے اہلِ خانہ اور مہمانوں کے کھانے کا خرچہ۔

شرعی نکتہ نگاہ سے ان دونوں طرح کے اخراجات میں حسبِ ذیل تفصیل ہے:

میت کی تجہیز و تکفین کا خرچہ:

جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین کے اخراجات کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر میت کا ذاتی مال موجود ہوتو اس کے کفن دفن کا خرچہ اسی میں سے کیا جائے گا،  اگر اس کے ترکہ میں مال موجود نہیں تو اس کے یہ اخراجات اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس پر اس کی زندگی میں مرحوم کا خرچہ واجب تھا، لہٰذا اگر میت کا باپ اور بیٹا دونوں زندہ ہوں تو کفن و دفن کے اخراجات بیٹے کے ذمہ ہوں گے، کیوں کہ جب کسی شخص کے پاس کوئی مال نہ ہواور اس کا باپ اور بیٹا دونوں موجود ہوں تواس کے اخراجاتِ زندگی بیٹے پر واجب ہوتے ہیں ،باپ پر نہیں، بیوی کا کفن دفن شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے، اگرچہ اس کے پاس مال موجود ہو۔ 

اگر میت کے پس ماندگان میں ایسا کوئی شخص نہ ہو جس پر اس کا خرچہ واجب ہوتا ہے یا ایسا کوئی فرد موجود ہو، لیکن وہ خود اتنا غریب ہو کہ یہ خرچہ برداشت نہیں کرسکے تو تکفین و تدفین کی ذمہ داری حکومتِ وقت کی ہے، لیکن اگر حکومتِ وقت یہ خرچہ نہیں اُٹھاتی یا ان کے نظم میں ایسی کوئی صورت نہ ہو تو جن مسلمانوں کو اس کی موت کا علم ہے، ان پر اس کی تکفین و تدفین کا خرچہ واجب ہے، اگر جاننے والے بھی سب غریب ہیں تو پھر وہ لوگوں سے چندہ کرکے یہ اخراجات برداشت کریں اور جو رقم باقی بچے وہ دینے والے کو واپس کریں، اگردینے والے کا علم نہ ہو تو اس رقم کو سنبھال کر رکھیں، اور اگر دوبارہ اس طرح کی صورتِ حال پیش آئے تو اس کی تکفین و تدفین میں اُسے خرچ کریں۔ 

میت کے اہلِ خانہ کے لیے کھانے کا بندوبست:

میت کے اہلِ خانہ کے لیے کھانے کا انتظام میت کے رشتہ داروں اور ہم سایوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ میت کے اہلِ خانہ کے لیے ایک دن اور رات کے کھانے کا انتظام کریں، کیوں کہ میت کے اہلِ خانہ غم سے نڈھال ہونے اور تجہیز و تکفین میں مصروف ہونے کی وجہ سے کھانا پکانے کا انتظام نہیں کرپاتے، غزوۂ موتہ میں جب نبی کریم ﷺ  کے چچا زاد بھائی حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور ان کی وفات کی خبر آپ ﷺ  تک پہنچی تو آپ ﷺ  نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرو ،کیوں کہ ان پرایسا شدید صدمہ آن پڑا ہے جس نے انہیں(دیگر اُمور سے )مشغول کردیا ہے۔ 

میت کے اہل خانہ کے علاوہ جو افراد دور دراز علاقوں سے میت کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور تکفین و تدفین میں شرکت کے لیے آئے ہوں اگر وہ بھی کھانے میں شریک ہوجائیں تو ان کا شریک ہونا  بھی درست ہے، تاہم تعزیت کے لیے قرب و جوار سے آئے لوگوں کے لیے میت کے ہاں باقاعدہ کھانے کا انتظام کرناخلافِ سنت عمل ہے۔

مروجہ انجمنوں اور کمیٹیوں کے مقاصد بظاہر  نیک اور ہم دردانہ ہے، لیکن یہ کمیٹیاں مذکورہ مقاصد سے ہٹ کر کئی شرعی قباحتوں پر مشتمل  ہیں:

٭۔کمیٹی کا ممبر بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد، چاہے امیر ہو یا غریب، ہر ماہ ایک مخصوص رقم کمیٹی میں جمع کرے،اگر وہ یہ رقم جمع نہیں کراتا تو اُسے کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے، پھر کمیٹی اس کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتی جو ماہانہ چندہ دینے والے ممبران کو مہیا کرتی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمیٹی کی بنیاد ’’امدادِ باہمی‘‘ پر نہیں، بلکہ اس کا مقصد ہرممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولیات  فراہم کرنا ہے، یہ سہولیات اس کی جمع کردہ رقم کی نسبت سے کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوسکتی ہیں، یہ معاملہ واضح طور پر قمار (جوا)کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ 

٭۔کمیٹی کے ممبران میں سے بعض اوقات غریب و نادارلوگ بھی ہوتے ہیں، جو اتنی وسعت واستطاعت نہیں رکھتے کہ ماہانہ سو روپے بھی ادا کرسکیں، لیکن خاندانی یا معاشرتی رواداری کی خاطر یا لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے وہ مجبوراً یہ رقم جمع کراتے ہیں، یوں وہ رقم تو جمع کرادیتے ہیں، لیکن اس میں خوش دلی کا عنصر مفقود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلال طیب نہیں ہوتا، کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے صرف اس کی دلی خوشی اور رضامندی کی صورت میں حلال ہے۔

٭ ۔بسااوقات اس طریقہ کار میں ضرورت مند اور تنگ دست سے ہم دردی اور احسان کی بجائے اس کی دل شکنی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کا رویہ برتا جاتا ہے، کیوں کہ خاندان کے جو غریب افراد کمیٹی کی ماہانہ یا سالانہ فیس نہیں بھر پاتے انہیں کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے، اس طرح ان کی حاجت اور ضرورت کے باوجود اُنہیں اس نظم کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور پھر موت کے غمگین موقع پر اُسے طرح طرح کی باتوں اور رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

٭ ۔اس طریقہ کار میں کھانا کھلانا ایک عمومی دعوت کی شکل اختیار کرجاتا ہے، حال آں کہ مستحب یہ ہے کہ یہ انتظام صرف میت کے گھر والوں کے لیے ہو۔

٭۔جو لوگ کمیٹی کو چندہ کے طور پر رقم جمع کراتے ہیں تو ان لوگوں کی طرف سے دی گئی رقم کی حیثیت امانت یا قرض کی ہے، لہذا اِس صورت میں اگر چندہ دینے والے کا انتقال ہوجائے اور اس رقم میں میت کی رقم بھی شامل ہو تو وہ  رقم اس کا ترکہ بن جاتاہےجو چندہ دینے والے (میت)  کے ورثاء میں شریعت کے مطابق تقسیم ہوگی، جب کہ کمیٹی والے اس رقم کو بھی میت کے کھانے پر خرچ کرتے ہیں جو شرعاً جائز نہیں۔

٭۔اگر چندہ دینے والا صاحبِ نصاب ہو تو اِس رقم پر زکوۃ کی ادائیگی بھی لازم ہوگی حالانکہ کمیٹی میں کوئی شخص بھی اپنی جمع کرائی گئی رقم سے  زکوۃ ادا نہیں کرتا، جو کہ شرعاً گناہ کبیرہ ہے۔

٭ ۔نیز کمیٹی  میں اس شخص کی رقم بھی شامل ہوتی ہے جس کے گھر فوتگی ہوئی ہے، اور اسی رقم سے میت کے اہلِ خانہ کے لیے کھانے کا بندوبست کیا جاتاہے،حالانکہ شریعت نے یہ ذمہ داری میت کے اہل خانہ پر نہیں، بلکہ پڑوس اور اہل محلہ پر ڈال دی ہے۔

(1- 2):لہٰذا  صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ انجمن کمیٹی  بنانا مذکورہ بالا قباحتوں کے پیشِ نظر جائز نہیں ہے، اس سے بچنا لازم ہے،البتہ اس کا متبادل حل یہ ہے کہ اگرمندرجہ بالا قباحتوں سے اجتناب کرتے ہوئے رفاہی انجمن یا کمیٹی قائم کی جائے جس میں مخیر حضرات ازخود چندہ دیں، کسی فردکوچندہ دینے پر مجبور نہ کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے، یہ انجمن یا کمیٹی خاندان کے لوگوں کی ضروریات کی کفالت کرے، بے روزگار افراد کے لیے روزگار ، غریب و نادار بچیوں کی شادی اور دیگر ضروریات میں ضرورت مندوں کی مدد کرے، ان امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اگریہ کمیٹی یا انجمن خاندان کے کسی فرد کی موت کے بعد اس کی تجہیز و تکفین پر آنے والے اخراجات بھی اپنے ذمہ لے تو یہ درست ہے۔

(3):ممبر جو داخلہ فیس اور ماہانہ فیس دیتاہے، اس کی شرعی حیثیت امانت یا قرض کی ہے، لہٰذا اگر دینے والا صاحبِ نصاب  ہو تو سال گزرنے  کی صورت میں دینے والے کو  اپنی دی ہوئی رقم کی زکوۃ ادا کرنا لازم ہے، انجمن والوں پر اس کی زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے۔

(4):چوں کہ میت کمیٹی بنانا کئی قباحتوں کے پیشِ نظر جائز نہیں ہے، اس لیے فنڈ میں رقم جمع ہونے کی صورت میں جمع شدہ رقم کو کاروبار میں لگانا بھی جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

 "(یبدأ من ترکة المیت  بتجهیزه)  یعم التکفین (من غیر تقتیر ولا تبذیر ) ککفن السنة أو قدر ما کان یلبسه في حیاته".

( کتاب الفرائض،ج: 7،ص:759،ط:سعید)

درالمختار میں ہے:

"(وکفن من لا مال له علٰی من تجب علیه نفقته) فإن تعددوا فعلی قدر میراثهم".

وفی حاشیتہ لابن عابدین:

"(قوله: فعلی قدر میراثهم ) کما کانت النفقة واجبة علیهم فتح، أی فإنها علی قدر المیراث فلو له أخ لأم وأخ شقیق فعلی الأول السدس والباقي علی الشقیق. أقول: ومقتضی اعتبار الکفن بالنفقة أنه لو کان له ابن وبنت کان علیهما سویة کالنفقة إذ لایعتبر المیراث في النفقة الواجبة علی الفرع لأصله ولذا لو کان له ابن مسلم وابن کافر فهي علیهما ومقتضاه أیضاً أنه لو کان للمیت أب وابن کفنه الابن دون الأب کما في النفقة علی التفاصیل الآتیة في بابها إن شاء اللّٰه تعالی".

وفی درالمختار:

"(وإن لم یکن ثمة من تجب علیه نفقته ففي بیت المال فإن لم یکن ) بیت المال معموراً أو منتظماً (فعلی المسلمین تکفینه ) فإن لم یقدروا سألوا الناس له ثوباً فإن فضل شیء رد للمصدق إن علم وإلا کفن به مثله وإلا تصدق به، مجتبی. وظاهره أنه لایجب علیهم إلا سؤال کفن الضرورة لا الکفایة ولو کان في مکان لیس فیه إلا واحد وذلک الواحد لیس له إلا ثوب لایلزمه تکفینه به.

وفی حاشیتہ لابن عابدین:

(قوله:فإن لم یکن بیت المال معموراً ) أی بأن لم یکن فیه شيء أو منتظماً أي مستقیمًا بأن کان عامراً ولایصرف مصارفه ط، (قوله: فعلی المسلمین ) أي العالمین به وهو فرض کفایة یأثم بترکه جمیع من علم به، ط ، (قوله: فإن لم یقدروا ) أي من علم منهم بأن کانوا فقراء، (قوله: وإلا کفن به مثله ) هذا لم یذکره في المجتبی، بل زاده علیه في البحر عن التنجیس و الواقعات، قلت: وفي مختارات النوازل لصاحب الهدایة: فقیر مات فجمع من الناس الدراہم وکفنون وفضل شیء إن عرف صاحبه یرد علیه وإلا یصرف إلى کفن فقیر آخر أو یتصدق به".

وفیہ ایضاً:

"(واختلف في الزوج والفتوی علی وجوب کفنها علیه ) عند الثاني ( وإن ترکت مالاً) خانیة، ورجحه في البحر بأنه الظاهر؛ لأنه ککسوتها".

(کتاب الصلاة، باب الجنائز، ج:2،ص:205-206،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"ولا بأس باتخاذ طعام لهم. و في الرد: (قوله: وباتخاذ طعام لهم ) قال في الفتح: ویستحب لجیران أهل المیت والأقرباء الأباعد تهیئة طعام لهم یشبعهم یومهم ولیلتهم".

(کتاب الصلاة، باب الجنائز،ج:2،ص:240،ط:سعید)

سنن ترمذی میں ہے:

"عن عبد اللّٰه بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر قال النبي صلی اللّٰه علیه وسلم: اصنعوا لأهل جعفر طعاماً فإنه قد جاء هم ما یشغلهم. قال أبو عیسی: هذا حدیث حسن صحیح، وقد کان بعض أهل العلم یستحب أن یوجه إلی أهل المیت شيء لشغلهم بالمصیبة".

(أبواب الجنائز، باب ما جاء في الطعام یصنع لأهل المیت، ج:1،ص:320،ط:رحمانیه)

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في کراهة الضیافة من أهل المیت وقال أیضاً ویکره اتخاذ الضیافة من الطعام من أهل المیت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهه بدعة مستقبحة، وروی الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحیح عن جریر بن عبد اللّٰه قال: کنا نعد الاجتماع إلى أهل المیت وصنعهم الطعام من النیاحة الخ".

 (کتاب الصلاة، باب الجنائز،ج:2،ص:240،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"لأن القمار من القمر الذي یزداد تارةً وینقص أخری وسمي القمار قماراً؛ لأن کلَّ واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلی صاحبه، ویجوز أن یستفید مال صاحبه وهو حرام بالنص".

( کتاب الحظر و الإباحة، فصل في البیع،ج:6،ص:404،ط:سعید)

مسنداحمد میں ہے:

"عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: کنت آخذاً بزمام ناقة رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و سلم في أوسط أیام التشریق أذود عنه الناس، فقال: یا أیها الناس! ألا لاتظلموا ، ألا لاتظلموا، ألا لاتظلموا، إنه لایحل مال امرء إلا بطیب نفس منه".

( رقم الحدیث:20714،ج:5،ص:72،ط:مؤسس قرطبة القاهرة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144402100402

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں