بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

میت کے استعمال شدہ اشیاء میں نحوست یا بدشگونی کا حکم


سوال

انسان کے مرنے کے بعد اس کے کپڑے یا بستر وغیرہ کو لوگ ہاتھ نہیں لگاتے کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ میت کے استعمال شدہ اشیاء بھی میت کے ترکہ شمار ہوتے ہیں، لہذا ان اشیاء  کو منحوس سمجھ کر یا بدشگونی کی وجہ سے ہاتھ نہ لگانا درست نہیں ہے، اس طرح کے غیر شرعی رسوم اور رواج سے اجتناب کیا جائے۔

شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:

"صح عندنا أن ‌الأشياء على أصل ‌الإباحة، حتى يقوم الدليل من عقل أو سمع على الحظر."

(كتاب الأشربة،ج:6، ص:373، ط:دار السراج)

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه:عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (‌لا ‌عدوى ‌ولا طيرة، ولا هامة ولا صفر)."

(كتاب الطب، باب: لا هامة، ولا صفر، ج:5، ص:2171، ط: دار إبن كثير)

فیض القدیر میں ہے:

"إن كان الشؤم) ضد اليمن مصدر تشاءمت وتيمنت قال الطيبي: واوه همزة خففت فصارت واوا ثم غلب عليها التخفيف ولم ينطق بها مهموزة (في شيء) من الأشياء المحسوسة حاصلا (ففي الدار والمرأة والفرس) يعني إن كان للشؤم وجود في شيء يكون في هذه الأشياء فإنها أقبل الأشياء له لكن لا وجود له فيها فلا وجود له أصلا ذكره عياض أي إن كان في شيء يكره ويخاف عاقبته ففي هذه الثلاث قال الطيبي: وعليه فالشؤم محمول على الكراهة التي سببها ما في الأشياء من مخالفة الشرع أو للطبع."

(حرف الهمزة، ج:3، ج:23، ط:المكتبة التجارية الكبرى - مصر)

البحر المحیط میں ہے:

"(ومنها): أن البدع التي لا أصل لها من الكتاب والسنة شر الأمور، وأنها هي الضلالة بعينها، فيجب اجتنابها، والحذر منها، والبعد عن أهلها، حتى لا يقع العاقل في مهواتها، فيكون مأواه نار جهنم وبئس المصير...البدعة ما خالفت الكتاب، والسنة، أو إجماع سلف الأمة من الاعتقادات، والعبادات."

(كتاب الجمعة، باب بيان كون الصلاة قصدا، والخطبة قصدا، وكيفية خطبته -صلى الله عليه وسلم، ج:17، ص:269۔273، ط:دار ابن الجوزي)

شرح المجلۃ لسلیم رستم باز میں ہے:

"أعیان المتوفیٰ المتروکة عنه مشترکة بین الورثة علی حسب حصصهم."

(كتاب الشركة، الفصل الثالث، ج:1، ص:484، رقم المادۃ: 1092، ط: رشیدیة)

احکام میت میں ہے:

"میت کے کپڑے ،جوڑے خیرات کرنا

ایک رسم یہ بھی ہے کہ میت کے انتقال کے بعد اس کے کپڑے اور جوڑے خاص کر استعمالی کپڑے خیرات کردیتے ہیں،حالانکہ ورثاءمیں اکثر نابالغ ورثاء بھی ہوتے ہیں،یاد رکھئےمیت کے تمام کپڑے اور ہر چھوٹی بڑی چیزاس کا ترکہ ہےجس کو شرع کے مطابق تقسیم کرنا واجب ہےاس سے پہلے کوئی چیز خیرات نہ کی جائے، البتہ اگر وارث بالغ ہو ں اور وہا ں موجودہوں اور خوش دلی سے سب متفق ہو کردے دیں تویہ خیرات کرنا جائز ہے لیکن اسے واجب یا ضروری سمجھنا پھربھی بدعت ہے۔"

(باب ہشتم بدعات اور غلط رسمیں(ص:217)ط: ادارۃ المعارف کرچی)

فقط واللہ اَعلم


فتوی نمبر : 144508101297

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں