بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ذو القعدة 1444ھ 01 جون 2023 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا ایک دوسرے کے جسم کا بوسا لینا کا حکم


سوال

بیوی کے جسم سے استمتاع میں کس حد تک گنجائش ہے کیا جائز ہے بیوی کے پورے جسم کا بوسہ لینا علاوہ محل نجاست کے، مثلا: ران، کولہے، فرج کے ارد گرد؟ اور اگر کوئی شخص کبھی کبھی محض فرج کا بوسہ لے تو کیا اس میں گنجائش ہو سکتی ہے؟

جواب

 صورت مسئولہ میں میاں، بیوی کا ایک دوسرے کے پورے جسم (علاوہ قبل اور دبر) کا بوسہ لینا جائز ہے۔ البتہ  ایک دوسرے کی شرمگاہ چاٹنا ،یہ عمل میاں بیوی کے درمیان بھی غیرشریفانہ اورغیرمہذب عمل ہے،میاں بیوی کاایک دوسرے کی شرمگاہ کودیکھنابھی غیرمناسب ہے اورنسیان کی بیماری کاسبب بنتاہے ، لہذااس سے حترازکرنا ضروری ہے، حدیث شریف میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سترکی طرف کبھی نظرنہیں اٹھائی اس حدیث کے ذیل صاحب مظاہرحق علامہ قطب الدین دہلویؒ لکھتے ہیں:

ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے یہ الفاظ ہیں کہ :نہ توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میراسترکبھی دیکھااورنہ کبھی میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاستردیکھا۔ان روایتوں سے معلوم ہواکہ اگرچہ شوہراوربیوی ایک دوسرے کاستردیکھ سکتے ہیں لیکن آداب زندگی اورشرم وحیاء کاانتہائی درجہ یہی ہے کہ شوہراوربیوی بھی آپس میں ایک دوسرے کاسترنہ دیکھیں۔دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کے پاس جائے توپردے کرے،اورگدھوں کی طرح ننگانہ ہو۔(یعنی بالکل برہنہ نہ ہو)۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن عائشة، قالت: «‌ما ‌نظرت، أو ما رأيت فرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قط."

(کتاب النکاح، باب التستر عند الجماع جلد، ج: ۱ صفحہ: ۶۱۹، ط: داراحیاء الکتب العربیة)

وفیہ ایضاً:

"عن عتبة بن عبد السلمي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أتى أحدكم أهله ‌فليستتر، ولا يتجرد تجرد العيرين."

(کتاب النکاح، باب التستر عند الجماع، ج جلد ۱ ص : ۶۱۸  ط : داراحیاء الکتب العربیة)

فتاوی ہندیۃ میں ہے:

"في النوازل إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة."

(کتاب الکراهیة ، الباب الثلاثون فی المتفرقات، ج: ۵ صفحہ: ۳۷۲، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406100414

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں