بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ماء مستعمل پینا اور اس سے آٹا گوندھنا


سوال

ایک آدمی کے پاس وضو والا استعمال شدہ پانی ہے کیا وہ اس کو پی سکتا ہے اور وہ اس سے آٹا گوندھ سکتا ہے؟

جواب

صحیح قول کے مطابق مستعمل پانی اگرچہ  پاک ہے لیکن اس کو پینا اور اس سے آٹا گوندھنا مکروہ ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(والجلوس في مكان مرتفع) تحرزا عن الماء المستعمل...

قوله: تحرزا إلخ) لوقوع الخلاف في نجاسته ولأنه مستقذر؛ ولذا كره شربه ‌والعجن به على القول الصحيح بطهارته."

(کتاب الطہارۃ،ج1،ص127،ط؛سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويكره شرب ‌الماء ‌المستعمل. كذا في الخلاصة."

(کتاب الطہارۃ،ج1،ص25،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100507

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں