بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

موجودہ صورتِ حال میں بد نظری کرنے کا حکم


سوال

آج کل کی موجودہ صورت حال میں اگر کوئی شخص بد نظری کرتا ہے تو اس کا کیا حکم ہوگا ؟

جواب

واضح رہے کہ بدنظری بہت سی بڑی برائیوں کا پیش خیمہ ہے، خصوصاًموجودہ حالات میں جب کہ اسلامی معاشروں میں بھی بے پردگی عام ہوتی جا رہی ہے اور  ہر شخص کو بدنگاہی کے مواقع بہت آسانی سےمیسر ہیں، ان حالات میں اپنی نظر کو بے لگام چھوڑ دینا اور اسے شریعت کی لگائی ہوئی پابندیوں سے آزاد کر خیال کرناخود  اپنے آپ کو گناہوں کے اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہے،گناہوں اور اخلاقی برائیوں کے اس سلسلے سے بچنے کا واحد راستہ اپنی نظر کی حفاظت ہے، قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو اپنی نظریں نیچے رکھنےکا حکم دیا ہے، لہذا نظر کی حفاظت کرنا واجب ہے اور بدنظری کرنا حرام ہے، البتہ اگر غیر ارادی طور پر نظر پڑ جائے اور فوراً نظر ہٹالے تو کوئی گناہ نہیں ہے۔نیز آج کل کے حالات میں جب گناہ کے اسباب اور وسائل تک رسائی بہت آسان ہے ان حالات میں کوئی شخص اپنی نفسانی خواہشات کو روکتے ہوئے اپنی نگاہوں کی حفاظت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی حلاوت نصیب فرمائیں گے۔

سورۃ النور میں ارشاد  ہے:

"قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ"(30،31)

ترجمہ: آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔

اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے (بھی) کہہ دیجیے کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ (بیان القرآن)

ابن القیم الجوزیہ  رحمہ اللہ اپنی کتاب الداء والدواء میں فرماتے ہیں:

"وأكثر ما تدخل المعاصي على العبد من هذه الأبواب الأربعة، فنذكر في كل باب منها فصلا يليق به. (النظرة) فأما اللحظات: فهي رائد الشهوة ورسولها، وحفظها أصل حفظ الفرج، فمن أطلق بصره أورد نفسه موارد المهلكات.وقال النبي - صلى الله عليه وسلم -: (لا تتبع النظرة النظرة، فإنما لك الأولى وليست لك الأخرى).

وفي المسند عنه - صلى الله عليه وسلم -: (النظرة سهم مسموم من سهام إبليس، فمن غض بصره عن محاسن امرأة لله، أورث الله قلبه حلاوة إلى يوم يلقاه) هذا معنى الحديث".

(فصل مدخل المعاصي، ص: 152، ط دار المعرفة)

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"والمراد غض البصر عما يحرم والاقتصار به على ما يحل،... ثم إن غض البصر عما يحرم النظر إليه واجب ونظرة الفجأة التي لا تعمد فيها معفو عنها...وبدأ سبحانه بالإرشاد إلى غض البصر لما في ذلك من سد باب الشر فإن النظر باب إلى كثير من الشرور وهو بريد الزنا وراء الفجور، وقال بعضهم:

كل الحوادث مبداها من النظر … ومعظم النار من مستصغر الشرر".

(سورة النور، 9/ 333، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144309100544

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں