بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

میٹرس پاک کرنا بہت مشکل ہو


سوال

ہماری یہاں متحدہ عرب امارات میں بستر کو جو پاک کرنے کا طریقہ آپ کے فتوی میں بتایا گیا ہے، اس طرح نا ممکن ہے؛  اس لیے کہ میٹرس اسپرنگ کے ہوتے ہیں جس سے پانی نیچے نہیں آتا۔ پھر باتھ روم اور گیلری چھوٹے ہیں جس میں یہ طریقہ کرنا ممکن نہیں۔ اگر بستر میں پیشاب کردیا کسی نے تو کیا گیلا پکڑا تین دفعہ اچھی طرح پونچھنے اور سکھانے کے بعد اس پر چادر بچھا کر تلاوت اور دیگر اذکار کر سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ طریقے سے بستر / میٹرس پاک تو نہیں ہوگا،  تاہم اگر وہ سوکھ جائے اور اس کا اثر کپڑوں یا بدن پر نہ پہنچے تو اس پر بیٹھ کر تلاوت اور اذکار کر سکتے ہیں، خصوصاً جب کہ اس پر چادر بھی بچھا دی ہو۔

یہ بھی واضح رہے کہ اگر کسی نجس چیز کو پانی سے پاک کرنا ممکن نہ ہو تو کسی ایسی پاک مائع چیز سے بھی اسے پاک کیا جاسکتا ہے جس سے نجاست کا اثر بالکل زائل ہوجائے، مثلاً: ڈرائی کلینر کے پاس اگر میٹرس پاک کرنے کی سہولت موجود ہو اور اس کی صفائی میں اتنا پیٹرول وغیرہ استعمال کیا جائے جس سے میٹرس گیلا ہو کر نچڑنے کے قابل ہوجائے، اور نجاست کو زائل کردے، پھر خواہ مشین سے یا کیمیائی عمل سے وہ فوراً خشک کردیا جائے تو بھی میٹرس پاک ہوجائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 347):
"والحاصل أنه على ما صححه الحلواني: العبرة للطاهر المكتسب إن كان بحيث لو انعصر قطر تنجس وإلا لا، سواء كان النجس المبتل يقطر بالعصر أو لا. وعلى ما في البرهان العبرة للنجس المبتل إن كان بحيث لو عصر قطر تنجس الطاهر سواء كان الطاهر بهذه الحالة أو لا، وإن كان بحيث لم يقطر لم يتنجس الطاهر، وهذا هو المفهوم من كلام الزيلعي في مسائل شتى آخر الكتاب". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110200227

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں