بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

متروکہ جائیداد مارکیٹ ویلیو کے حساب سے تقسیم ہوگی


سوال

10 جون 2019 ء کو ہمارے والد کا انتقال ہوا، اس سے پہلے انہوں نے جائیداد کا حساب لگایا اور بیٹوں کو ہدایت کی کہ میرے بعد اس حساب سے جائیداد ورثاء میں تقسیم کی  جائے۔ورثاء میں بیوہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ہمارے دادا دادی کا والد سے پہلے انتقال ہو گیاتھا۔بیوہ اور لڑکے وصیت پر عمل کرنے راضی ہیں، لیکن لڑکی انکاری ہے۔لڑکی کہتی ہے کہ آج کی قیمت لگائی جائے ، اگر باقی پسماندگان اس کی بات مانتے ہیں تو وہ اتنی زیادہ لگارہی ہے جو نا قابل عمل ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ :

1۔ لڑکی کو اپنے والد کی وصیت پر عمل کرنا چاہیے ؟

2۔ بیٹے وراثت کیسے تقسیم کریں؟

3۔ اگر لڑکی وراثت لینے پر راضی نہ ہو تو اس کاحصہ بینک میں بطور ِ امانت رکھ دیں؟

جواب

1۔ لڑکی پر اپنے والد کی وصیت پر عمل کرنا لازم نہیں ہے۔

2۔ آج کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے جائیداد کو تقسیم کیا جائے گا۔

3۔ لڑکی کو اس کا  پورا حصہ دیا جائے، اگر نہ لے تو جائیداد میں جو نقدی ہو، اس کو محفوظ رکھا جائے، حفاظت کے لیے بینک میں رکھنے کی بھی اجازت ہے۔لڑکی کے حصے کی  زمین،  مکان وغیرہ کو بعینہ محفوظ رکھا جائے، دیگر ورثاء کو  اس کے حصے کی فروختگی کی اجازت نہیں ہے۔

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد کی جائیداد کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ  میں سے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچ نکالنے  کے بعد ، اگر مرحوم پر کوئی قرض   ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اور   اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال  کے ایک تہائی  میں اسے نافذ کرنے کے بعد ،باقی متروکہ جائیداد منقولہ و غیر منقولہ  کے کل  8حصے کئے جائیں گے  ، جس میں سے مرحوم کی بیوہ کو ایک حصہ،  ہر بیٹے   کو  2حصے  اور بیٹی کو  ایک حصہ ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے :

میت : (والد) ، مسئلہ : 8

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹی
12221

یعنی سو روپے میں سے بیوہ کو 12.50روپے ، ہر بیٹے کو 25روپے اور ہر بیٹی 12.50 روپے ملیں گے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء۔"

(فصل في بيان حكم الملك والحق الثابت في المحل: 6 /264، ط: دار الكتب العلمية)

مجلة الأحكام العدلية میں ہے:

"(المادة 96) : ‌لا ‌يجوز ‌لأحد ‌أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه۔"

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية: 27، ط: نور محمد کراچی)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100750

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں