بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

متروکہ زمین میں تعمیرات وغیرہ کرنے کے بعد زمین کی موجودہ ویلیو میں بہنوں کا حصہ


سوال

ہمارے والد کی بہت پہلے  وفات ہوئی، اس کی جائداد میں زمین رہ گئی،  جو وارثوں کے درمیان میں تقسیم نہیں ہوئی،  اب تقریباً (20 ) سال بعد وہ زمین آباد( باغات اور دوکانیں لگانے سے )ہونے کی وجہ سے مہنگی ہوگئی، اب بھائی اپنی بہن کو اپنا حصہ دیتا ہے تو کس اعتبار سے دے؟  باغ اور دوکانوں کی قیمت منہا کرے یا سب کی قیمت لگا کر دے، یاد رکھیں آباد کرنے میں بھائی کی محنت ہے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں والد کے انتقال کے بعد بھائی کو چاہیے تھا کہ والد کا مکمل ترکہ شرعی طریقہ کار کے مطابق تقسیم کرتے، تاہم جب بھائی نے ترکہ تقسیم نہیں کیا، اور مزید کاروبار کیے، اور مذکورہ زمین پر باغات دوکانیں وغیرہ تعمیر کی تو اس زمین میں بہنیں موجودہ ویلیو کے حساب سے حق دار ہے، نیز مذکورہ زمین میں موجود باغات اور تعمیرات میں بھی بہنیں اپنی شرعی حصّے کے تناسب سے حقدار ہے، لہذا بھائیوں پر لازم ہے کہ موجودہ ویلیو کے حساب سے ترکہ کی تقسیم کرکے عنداللہ بریء الذمہ ہوجائیں گے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"[تنبيه] يقع كثيراً في الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارةً يكون كبيرهم هو الذي يتولى مهماتهم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها مع كون التركة أغلبها أو كلها عروض لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أن هذه ليست شركة مفاوضة، خلافاّ لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له بل هي شركة ملك، كما حررته في تنقيح الحامدية. ثم رأيت التصريح به بعينه في فتاوى الحانوتي، فإذا كان سعيهم واحداً ولم يتميز ما حصله كل واحد منهم بعمله يكون ما جمعوه مشتركاً بينهم بالسوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصواباً، كما أفتى به في الخيرية".

(كتاب الشركة، مطلب فيمايقع كثيرا فى الفلاحين مما صورته شركة مفاوضة، ج:4، ص:307، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503102736

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں