بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مستورات کا مروجہ تبلیغی جماعت میں نکلنا


سوال

ہم نے مستورات کے مروجہ تبلیغی جماعت میں نکلنے پر ناجائز  کا فتویٰ مانا اور اسی کو دوسرے لوگوں کے سامنے رکھا ،تاکے عمل کرنے میں آسانی ہو تو کچھ سوال ہیں جو میں آپ سے مئودبانہ گذارش کے ساتھ عرض کرکے تسلی بخش جواب حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔

1 کچھ لوگ یہ بتا کر اختلاف کررہے ہیں کہ خیروالقرون میں صحابیات ؓ جہاد میں گئیں تھیں اب انکو کیا بتانا ہے سمجھ سے باہر ہے ؟

2 ایک ساتھی سورة توبة آیت نمبر 71  کو سامنے رکھ کر بیان کیا کہ مومن مرد اور مومن عورت دین میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں ۔(اس کو بنیاد بناکر تبلیغی جماعت میں نکالا جا رہا ہے) اور یہی ساتھی یہ کہہ رہے تھے کہ حضور اقدس ﷺ کے زمانے میں تشکیل کی نوبت نہیں آتی تھی خواتین اپنے آپ کو خود پیش کرتی تھیں یا رسول اللہ (ﷺ ) آپ جا رہے ہیں اللہ کے راستے میں ہم بھی آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں (اور آگے کہا) کہ آپ ﷺ نے اپنی بیٹیوں کو تمام بنات کو اللہ کے راستے میں روانہ فرمایا ۔

3۔خود آپ ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کو باری باری قراء ڈال ڈال کر اللہ کے راستے میں لے جایا کرتے تھے ۔

4- اور کچھ لوگ حج اور نفلی عمرہ کہہ کر بھی اعتراض کرنے لگے ہیں ،ان کو جواب دینے سے بندہ قاصر ہے براہ کرم تفصیلی روشنی ڈالیں عین نوازش ہوگی۔

جواب

واضح رہے کہ  تبلیغی جماعت  میں مستورات  کے خروج  کے عدمِ جواز سے متعلق دار الافتاء کا فتوی شرعی دلائل پر مبنی ہے، اس فتوی پر عمل کی  دعوت   شرعی حکم پر عمل کی دعوت ہے ،اسے ذاتی رجحانات سے بالاتر  ہوکر دیکھنا اور سوچنا چاہے، جہاں تک سائل کے ذکر کردہ سوالوں کا تعلق ہے، ان کے   مختصر جوابات ملاحظہ ہوں:

(١)شروع میں بلا شبہ صحابیات جہاد میں نکلتی تھیں ،بعد میں انہیں  منع فرمادیا گیا تھا،نیز جس طرح شروع میں نماز  باجماعت کے لئے مسجدوں میں آیا کرتی تھیں بعد میں منع فرمایا گیا تھا  ،اس سے بآسانی  سمجھا جاسکتا ہے کہ ہر خیرکے   کام کے لئے مستورات کا مردوں کی طرح تشکیل اور خروج میں جانا شرعی احکام و مزاج کے مطابق ضروری نہیں۔ ملاحظہ  ہو حوالہ نمبر 1

(٢)بلا شبہ مسلمان مرد اور خاتون دینی امور میں ایک دوسرے کے معاون ہیں مگر دونوں کا دائرہ کار مختلف ہے۔

جیسے مرد جہاد میں قتال کرتے تھے اور عورتیں کھانے پانی کا انتظام کرتی تھی اور مرہم پٹی کا بندوبست بھی کیا کرتی تھی۔

اسی طرح گھر کے باہر مردوں کو دینی امور کیلئے تیار کر کے بھیجنا عورتوں کا تعاون ہےاور اندرون خانہ عورتوں کی دینی و خانگی ضروریات مہیا کرنا مردوں کا ان کے ساتھ تعاون ہے۔ملاحظہ  ہو حوالہ نمبر 2

(٣)ازواج مطہرات کا حضور ﷺ کے ساتھ  جہادی یا غیر جہادی سفر میں جانا بلاشبہ ثابت ہے،مگر وہاں مردانہ وار کسی سرگرمی میں شریک ہونا لازمی نہیں تھا ،اس لیئے ان اسفار سے تشکیل اور خروج کیلئے استدلال کرنا تحریف یا دین میں از خود اضاٖفہ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ملاحظہ  ہو حوالہ نمبر 3

(٤)البتہ عورتوں کا حج و  عمرہ کا سفر ثابت ہے،یہ  منصوص عبادت ہے مرد و عورت دونوں سے مطلوب ہے اور دونوں کی ضرورت بھی ہے،یعنی عورتوں کے حق میں حج و عمرہ یہ نہ صرف  یہ کہ منصوص ہے بلکہ شرعاً مطلوب بھی ہے، اس کے برعکس تبلیغی جماعت کی مروجہ تشکیلات منصوص بھی نہیں ،بلکہ خود تبلیغی جماعت کے بانی بزرگوں کی ہدایات اور بیان کردہ آداب  میں بھی اس کی صراحت نہیں ملتی، اس لئے منصوص عبادت اور غیر منصوص یا غیر مشروع عمل کے درمیان قیاس بظاہر درست نہیں۔ملاحظہ  ہو حوالہ نمبر 4

حوالہ جات

1)صحيح مسلم میں ہے:

"عن أنس بن مالك. قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغزو بأم سليم. ونسوة من الأنصار معه إذا غزا فيسقين الماء ويداوين الجرحى."

(كتاب الجهاد والسير،باب غزوة النساء مع الرجال،ج:3،ص:443،ط:دار إحياء التراث العربي)

حیاۃ الصحابہ میں ہے:

"أخرج الطبراني عن أم كَبُشَة رضي الله عنها امرأة من عذرة - عذرة بني قضاعة - أنها قالت يا رسول الله - - أتأذن أن أخرج في جيش كذا وكذا، قال لا، قالت يا رسول الله ، إنه ليس أريد أن أقاتل، إنما أريد أداوي الجرحى، والمرضى أو أسقي المرضى، قال لولا أن تَكُونَ سُنَّةً ويقال فلانةُ خَرجَتْ لأَذِنْتُ لَكِ، ولكن اجلسي قال الهيثمي ( ج ۵ ص (۳۲۳) رواه الطبراني في الكبير والأوسط، ورجالهما رجال الصحيح ."

(کتاب الجہاد،الإنكار على خروج النساء في الجهاد،ص:265،ط:دار الکتب العلمیۃ بیروت)

صحيح البخاري میں ہے:

"عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها قالت:استأذنت النبي صلى الله عليه وسلم في الجهاد، فقال جهادكن الحج."

((‌‌باب جهاد النساء،ج:4،ص:32،ط:دار طوق النجاة)

صحيح البخاري میں ہے:

"عن عائشة رضي الله عنها قالت:لو أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحدث النساء، لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل. قلت لعمرة: أو منعهن؟ قالت: نعم."

‌‌(باب خروج النساء إلى المساجد بالليل والغلس،ج:1،ص:173،طدار طوق النجاة)

المستدرك على الصحيحين میں ہے:

"‌عن ‌عبد ‌الله، ‌عن ‌النبي ‌صلى ‌الله ‌عليه ‌وسلم، ‌قال: «‌صلاة ‌المرأة ‌في ‌بيتها ‌أفضل ‌من ‌صلاتها ‌في ‌حجرتها، ‌وصلاتها ‌في ‌مخدعها ‌أفضل ‌من ‌صلاتها ‌في ‌بيتها."

(من كتاب الإمامة، وصلاة الجماعة،ج:1،ص:328،ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌ويكره ‌حضورهن ‌الجماعة) ‌ولو ‌لجمعة ‌وعيد ‌ووعظ (‌مطلقا) ‌ولو ‌عجوزا ‌ليلا (‌على ‌المذهب) ‌المفتى ‌به ‌لفساد ‌الزمان، ‌واستثنى ‌الكمال ‌بحثا ‌العجائز ‌والمتفانية."

(كتاب الصلاة،ج:1،ص:566،ط:سعید)

2)صحيح مسلم میں ہے:

"عن أنس بن مالك. قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغزو بأم سليم. ونسوة من الأنصار معه إذا غزا فيسقين الماء ويداوين الجرحى."

(كتاب الجهاد والسير،باب غزوة النساء مع الرجال،ج:3،ص:443،ط:دار إحياء التراث العربي)

المبدع في شرح المقنع میں ہے:

"وقاله أبو بكر بن أبي شيبة؛ لأنه - عليه السلام - «قضى على فاطمة ابنته بخدمة البيت، وعلى علي ما كان خارج البيت» رواه الجوزجاني من طرق."

(ج:6،ص:253،ط:دار الكتب العلمية، بيروت)

3)صحيح البخاري میں ہے:

"عن حديث عائشة، كل حدثني طائفة من الحديث، قالت:كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أرادأن يخرج أقرع بين نسائه، فأيتهن يخرج سهمها خرج بها النبي، فأقرع بيننا في غزوة غزاها، فخرج فيها سهمي، فخرجت مع النبي صلى الله عليه وسلم ‌بعد ‌ما ‌أنزل ‌الحجاب."

(باب: حمل الرجل امرأته في الغزو دون بعض نسائه،ج:3،ص:1055،ط:دار ابن كثير)

4)صحيح البخاري میں ہے:

"عن ‌عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: «كان الفضل رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجاءت امرأة من خثعم، فجعل الفضل ينظر إليها وتنظر إليه، وجعل النبي صلى الله عليه وسلم يصرف وجه الفضل إلى الشق الآخر، فقالت: يا رسول الله، إن فريضة الله على عباده في الحج أدركت أبي شيخا كبيرا، لا يثبت على الراحلة، أفأحج عنه. قال: نعم. وذلك في حجة الوداع."

(كتاب الحج‌‌،باب وجوب الحج وفضله،ج:2،ص:132،ط:دار طوق النجاة)

صحيح مسلم میں ہے:

"عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها؛ قالت:خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم عام حجة الوداع. فأهللت بعمرة. ولم أكن سقت الهدي. فقال النبي صلى الله عليه وسلم "من كان معه هدي، فليهلل بالحج مع عمرته، ثم لا يحل حتى يحل منهما جميعا". قالت فحضت. فلما دخلت ليلة عرفة، قلت: يا رسول الله! إني كنت أهللت بعمرة. فكيف أصنع بحجتي؟ قال: "انقضي رأسك. وامتشطي. وأمسكي عن العمرة. وأهلي بالحج " قالت: فلما قضيت حجتي أمر عبد الرحمن بن أبي بكر، فأردفني، ‌فأعمرني ‌من ‌التنعيم. ‌مكان ‌عمرتي ‌التي ‌أمسكت ‌عنها."

(كتاب الحج،ج:2،ص:871،ط:دار إحياء التراث العربي )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501101015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں