بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا تعلیم و تعلم کے لیے مسجد میں جمع ہونا


سوال

 مستورات کا مسجد میں تعلیم  وتعلم کے لئے جمع ہونا کیسا ہے؟

جواب

عورتوں کو دینی تعلیم دلانا  شریعت میں مطلوب اور وقت کی اہم ضرورت  ہے، اس کا سب سے عمدہ طریقہ یہ ہے کہ مرد ضروری دینی مسائل سیکھ کر گھر کی عورتوں کو سکھائیں،تا کہ انہیں گھر سے باہرنہ نکلنا  پڑے،کیونکہ عورتوں کا شدید ضرورت کے علاوہ گھر سے باہر نکلنا شریعت میں پسندیدہ نہیں، اس طریقہ سے عورتوں کے لیے تعلیم کا انتظام کرنا  مردوں کی ذمہ داریوں میں داخل ہے،   اگر یہ صورت ممکن نہ ہو تو چند عورتیں مل کر کسی  گھر میں  مکمل پردے  کے انتظام کے ساتھ جمع ہو جائیں اگر کسی معلمہ سے تعلیم حاصل کرنا ممکن ہے تو معلمہ سے تعلیم حاصل کریں ورنہ  کسی عالمِ دین  سے درمیان میں باقاعدہ پردے کے اہتمام کے ساتھ دین کی تعلیم حاصل کریں تو یہ بھی درست ہے، البتہ عورتوں کے لیے تعلیم و تعلم کی غرض سےمسجد میں جمع ہونا درست نہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا."(سورۃ الجن، رقم الآیۃ:18)

ترجمہ:اور یہ کہ مسجد گاہیں سب اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت مت کرو۔

(ہدایت القرآن، ج:8،، ص: 408،ط: مکتبہ غزنوی کراچی)

 ارشاد باری تعالی ہے:

"{وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى}."[الأحزاب : 33]

ترجمہ: ’’تم اپنے گھر میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو۔‘‘(بیان القرآن)

صحيح البخاري میں ہے:

"حدثنا آدم قال: حدثنا شعبة قال: حدثني ابن الأصبهاني قال: سمعت أبا صالح ذكوان: يحدث عن أبي سعيد الخدري:

قال النساء للنبي صلى الله عليه وسلم: غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك، فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وأمرهن، فكان فيما قال لهن: (ما منكن امرأة تقدم ثلاثة من ولدها، إلا كان لها حجابا من النار). فقالت امرأة: واثنين؟ فقال: (واثنين)".

 کتاب العلم ، باب ہل یجعل للنساء  یوما علی حدۃ فی العلم ج:۱،ص:50، ط: دار ابن كثير)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102580

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں