بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسنون اعتکاف میں آن لائن ملازمت کرنے کا حکم


سوال

مسنون اعتکاف میں آن لائن جاب کرنا صحیح ہے کہ نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد عبادت، تلاوت، ذکر اور دیگر    حقوق اللہ کی ادائیگی کےلیے مختص ہے ،  مالی معاملات سے اُس کو فا   رغ رکھنا ضروری ہے۔ 

لہذا مسنون اعتکاف  میں  مسجد کے اندر خرید وفروخت   کرنا یا آن لائن جاب کرنا  مکروہ تحریمی ہے، البتہ  اگر اپنی جان یا بیوی بچوں کی کفالت کے لیےاِس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ    نہ ہو ،اور اس کی فوری ضرورت بھی ہو تو پھر ایسی مجبوری میں  مبیع حاضر کیے بغیر خرید وفروخت کرنے کی یاآن لائن جاب کرنے کی گنجائش ہے، لیکن اس سےا عتکاف فاسد نہیں ہو گا، لیکن اعتکاف کا مقصد فوت ہو جائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وخص) المعتكف (بأكل وشرب ونوم وعقد احتاج إليه) لنفسه أو عياله فلو لتجارة كره (كبيع ونكاح ورجعة)  فلو خرج لأجلها فسد لعدم الضرورة(وكره) أي تحريما لأنها محل إطلاقهم بحر (إحضار مبيع فيه) 

(قوله إحضار مبيع فيه) لأن المسجد محرز عن حقوق العباد، وفيه شغله بها ودل تعليلهم أن المبيع لو لم يشغل البقعة لا يكره إحضاره كدراهم يسيرة أو كتاب ونحوه بحر لكن مقتضى التعليل الأول الكراهة وإن لم يشتغل نهر.قلت: التعليل واحد ومعناه أنه محرز عن شغله بحقوق العباد، وقولهم وفيه شغله بها نتيجة التعليل ولذا أبدله في المعراج بقوله: فيكره شغله بها فافهم."

(باب الاعتكاف، 448/2، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144509101679

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں