بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مصنوعی دانت لگوانے کی صورت میں وضو کا حکم


سوال

مصنوعی دانت لگا کر وضو کرنے سے وضو ہو جائیگا یا نہیں ؟کیا حکم ہے؟

سوال کی تفصیل یہ ہے  کہ میرا ایک جماعتی ہے، جو بوڑھا ہے، جس کے دانت مصنوعی ہیں،اب اوپر والے جو دانت ہیں وہ وضوکے وقت نہیں نکلتے اور جو نیچے والے دانت ہیں وہ وضوکے وقت نکلتے ہیں، تو پوچھنا یہ تھا کہ: نیچے والے دانت جو وضو کے وقت آسانی سے نکل جاتے ہیں، تو یہ دانت نکال کر وضو کرے یا دانت پہنے ہوئے  حالت  میں  وضوکرے ،کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائل کے ہم جماعت شخص پر وضو  و غسل کے لیے اوپر کے دانت نکالنا اگر مشکل ہو ں تو  انہیں نکال کر وضو کرنا لازم نہیں ہے، کیوں کہ ان کو نکالنا مشکل ہے، لہذا وہ اصلی دانت کے حکم میں ہیں، البتہ نیچے والے دانتوں کو چوں کہ نکالنا آسانی کےساتھ ممکن ہے، اس لیے وضو   میں  کلی  کی سنت کی تکمیل کے لیے ان کو نکال کر  کلی کرنا  ہوگی، اور غسل فرض ہو تو ان دانتوں کو نکال کر کلی کرنا  ضروری ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويجب) أي يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة كأذن و (سرة وشارب وحاجب و) أثناء (لحية) وشعر رأس ولو متبلدا لما في - {فاطهروا} [المائدة: 6]- من المبالغة (وفرج خارج) لأنه كالفم لا داخل؛ لأنه باطن، ولا تدخل أصبعها في قبلها به يفتي.  (لا) يجب (غسل ما فيه حرج كعين) وإن اكتحل بكحل نجس (وثقب انضم و) لا (داخل قلفة)  يندب هو الأصح قاله الكمال، وعلله بالحرج فسقط الإشكال. وفي المسعودي إن أمكن فسخ القلفة بلا مشقة يجب وإلا لا."

(‌‌كتاب الطهارة،فرض الغسل،152/1، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل إن صلبا منع، وهو الأصح."

(‌‌كتاب الطهارة،فرض الغسل،154/1، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"‌الأصل ‌وجوب ‌الغسل إلا أنه سقط للحرج."

(‌‌كتاب الطهارة،فرض الغسل،153/1، ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144504100411

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں