بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مصنوعی ناخن لگوانے کی صورت میں وضو اور غسل کا حکم


سوال

آج کل عورتیں جو مصنوعی ناخن لگواتی ہیں، جو 4 ماہ 5 ماہ وغیرہ کی مدت کے ہوتے ہیں تو کیا وہ لگوانے سے وضو اور غسل وغیرہ ہوجاتا ہے؟ کیونکہ اس میں پالش کی ایک تہہ بھی ہوتی ہے تو کیا غسل جنابت وغیرہ کی صورت میں غسل کرکے نماز روزہ رکھ سکتی ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وضو اور غسل میں اصل  ناخن اور اس  کی  جڑوں تک پانی پہچانا ضروری ہے ،چناں چہ اگر پانی اصل  ناخنوں  اوراس کی جڑوں تک نہ پہنچے تو وضو اور غسل  صحیح نہیں ہوگا،مذکورہ  مصنوعی ناخن شرعی اعتبار سے اصل ناخن کے حکم میں نہیں ہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں مصنوعی ناخن   کو اصل ناخن کے اوپر لگانے کے لیے گوند وغیرہ استعمال کی جاتی ہے جس کی وجہ  سے وضو اور غسل کے دوران پانی  اصل ناخنوں تک نہیں پہنچ نہیں پاتا لہذا وضو اور غسل  صحیح نہیں ہوگا اور ایسی صورت میں  عورتوں کی  نماز صحیح نہیں ہوگی ، اور جتنی نمازیں مصنوعی ناخن کے ساتھ  وضو کرکے ادا کی ہیں، ان سب کا لوٹانا واجب ہے،ساتھ ساتھ توبہ استغفار بھی ضروری ہے،مذکورہ تفصیل کی رو سےعورت کی جنابت  اگر احتلام یا ہمبستری کے سبب سے ہے  تو روزہ رکھنے سے روزہ صحیح ہوجاۓ گا، البتہ  اگر عورت کی ناپاکی حیض یا نفاس کے سبب ہے تو   اس صورت میں عورت کا  روزہ رکھنا جائز  نہیں ہے، بلکہ بعد میں قضا کرے۔  

 قرآن حکیم میں  ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ. (المائدۃ، 5 : 6)

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز لے لیے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لیے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)۔

فتاوى هندیہ میں ہے:

" في فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز. وسئل الدبوسي عمن عجن فأصاب يده عجين فيبس وتوضأ قال: يجزيه إذا كان قليلا. كذا في الزاهدي وما تحت الأظافير من أعضاء الوضوء حتى لو كان فيه عجين يجب إيصال الماء إلى ما تحته. كذا في الخلاصة وأكثر المعتبرات. ذكر الشيخ الإمام الزاهد أبو نصر الصفار في شرحه أن الظفر إذا كان طويلا بحيث يستر رأس الأنملة يجب إيصال الماء إلى ما تحته وإن كان قصيرا لايجب. كذا في المحيط. ولو طالت أظفاره حتى خرجت عن رءوس الأصابع وجب غسلها قولا واحدا. كذا في فتح القدير. وفي الجامع الصغير سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ قال كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم إذ لايستطاع الامتناع عنه إلا بحرج والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي. كذا في الذخيرة وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار. كذا في الزاهدي ناقلا عن الجامع الأصغر. والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل. كذا في السراج الوهاج ناقلاً عن الوجيز".

( كتاب الطهارة،الباب الأول،الفصل الأول في فرائض الوضوء،1/4،ط:رشیدية)

البحر الرائق میں ہے:

"ولو لصق بأصل ظفره طين يابس وبقي قدر رأس إبرة من موضع الغسل لم يجز."

(كتاب الطهارة،أركان الطهارة،14/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)

الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید میں  ہے:

"فما یضعه بعض النساء من طلاء علی أظافرھن يمنع وصول الماء على إلى الأظافر فلايصح الوضوء حتى يزال هذا الطلاء ويغسل ما تحته."

(كتاب الطهارة،احكام الطهارة،الوضوء،شروط صحة الوضوء، 69/1،ط:دار القلم،دمشق)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو ‌أصبح ‌جنبا في رمضان فصومه تام عند عامة الصحابة مثل علي وابن مسعود وزيد بن ثابت وأبي الدرداء وأبي ذر وابن عباس وابن عمر ومعاذ بن جبل - رضي الله تعالى عنهم -.............ولعامة الصحابة قوله تعالى {أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم} [البقرة: 187] إلى قوله {فالآن باشروهن وابتغوا ما كتب الله لكم وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر} [البقرة: 187] أحل الله عز وجل الجماع في ليالي رمضان إلى طلوع الفجر، وإذا كان الجماع في آخر الليل يبقي الرجل جنبا بعد طلوع الفجر لا محالة فدل أن الجنابة لا تضر الصوم."

(كتاب الصوم،فصل أركان الصيام،92/2،ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(يمنع صلاة) مطلقا ولو سجدة شكر (وصوما) .......... قال المحقق تحته:(قوله صوما) أي يحرمه ويمنع صحتة لا وجوبه فلذا تقضيه."

(كتاب الطهارة،باب الحيض،290/1،ط:سعيد)

فقط والله اعلم

 

 


فتوی نمبر : 144409100515

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں