بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ماسک لگا کر نماز پڑھنے کا حکم، لکڑی کے تخت یا تختہ پر نماز پڑھنے کا حکم


سوال

 (1) ماسک لگا کر نماز پڑھنے سے کیا نماز ہوجاتی ہے ؟

(2) گھروں میں جو  لکڑی کا  جائے نماز جو کہ زمین سے بلند ہو اس پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ اس پر نماز ہو جاتی ہے یا نہیں ؟

جواب

(۱)  عام حالات میں بلا عذر   ناک اور منہ کسی کپڑے وغیرہ میں لپیٹ کر نماز  پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے نماز میں چہرہ کو ڈھانپا جائے یا ماسک پہنا جائے تو  نماز بلا کراہت  درست ہو گی؛ لہٰذا موجودہ وقت میں وائرس سے بچاؤ کی تدبیر کے طور پر احتیاطاً ماسک پہن کر نماز پڑھنے سے نماز بلاکراہت ادا ہوجائے گی۔

(۲)   واضح رہے کہ نماز ہر ایسی ٹھوس چیز پر پڑھنا اور پڑھانا  درست ہے جو پاک ہو اور سجدہ کی حالت میں سر اُس پر ٹِک سکے، اب اگر کوئی شخص لکڑی کا تختہ بنوا کر اس پر نماز ادا کرتا ہے تو  اس میں شرعاً  کوئی حرج نہیں ہے، اس پر نماز پڑھنا درست ہو گا۔

ہاں! اگر تختہ ایسا بنایا گیا ہو کہ اس کی اونچائی ڈیڑھ فٹ ہو اور وہ تخت امام صاحب کے لیے  بنایا گیا ہو کہ وہ اس پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو  امام صاحب کا اس قدر (ڈیڑھ فٹ یا اس سے زیادہ) بلند تخت پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانا مکروہ ہو گا،  لیکن اگر امام کا تخت اتنا اونچا نہیں ہے، تو ایسے تخت پر امام صاحب کا کھڑے ہو کر نماز پڑھانا بھی مکروہ نہیں ہو گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"يكره اشتمال الصماء والاعتجار والتلثم والتنخم وكل عمل قليل بلا عذر".

"(قوله: والتلثم) وهو تغطية الأنف والفم في الصلاة؛ لأنه يشبه فعل المجوس حال عبادتهم النيران، زيلعي. ونقل ط عن أبي السعود: أنها تحريمية". 

(مطلب مكروهات الصلوة، ج:1، ص:652، ط:ايج ايم سعيد)

الفتاوى الهندية (1/ 143)

"وأما الصلاة علی العجلة فإن کان طرفها علی الدابة و هي تسیر أو لاتسیر فهي صلاة علی الدابة، وقد مرّ حکمها، و إن لم یکن فهي بمنزلة السریر، وکذا لو رکز تحت المحمل خشبة حتی بقي قراره علی الأرض لا علی الدابة یکون بمنزلة الأرض، کذا في التبیین".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:

"(وانفراد الإمام على الدكان) للنهي، وقدر الارتفاع بذراع، ولا بأس بما دونه، وقيل ما يقع به الامتياز وهو الأوجه ذكره الكمال وغيره (وكره عكسه) في الأصح وهذا كله (عند عدم العذر) كجمعة وعيد، فلو قاموا على الرفوف والإمام على الأرض أو في المحراب لضيق المكان لم يكره لو كان معه بعض القوم في الأصح،(عند عدم العذر) كجمعة وعيد."

(کتاب الطهارۃ، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، ج: 1، 646، ط: ایچ، ایم، سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ويكره قيام الإمام وحده في الطاق وهو المحراب ولا يكره سجوده فيه إذا كان قائما خارج المحراب هكذا في التبيين وإذا ضاق المسجد بمن خلف الإمام فلا بأس بأن يقوم في الطاق. كذا في الفتاوى البرهانية ويكره أن يكون الإمام وحده على الدكان وكذا القلب في ظاهر الرواية. كذا في الهداية وإن كان بعض القوم معه فالأصح أنه لا يكره. كذا في محيط السرخسي ثم قدر الارتفاع قامة ولا بأس بما دونها ذكره الطحطاوي وقيل: إنه مقدر بما يقع به الامتياز، وقيل: بمقدار الذراع اعتبارا بالسترة وعليه الاعتماد. كذا في التبيين وفي غاية البيان هو الصحيح. كذا في البحر الرائق."

(کتاب الطهارۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره، ج: 1، صفحہ: 108، ط: دار الفکر)

 البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"(قوله: وانفراد الإمام على الدكان وعكسه) أما الأول فلحديث الحاكم مرفوعا «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أن يقوم الإمام فوق ويبقى الناس خلفه» وعللوه بأنه تشبه بأهل الكتاب فإنهم يتخذون لإمامهم دكانا أطلقه فشمل ما إذا كان الدكان قدر قامة الرجل أو دون ذلك وهو ظاهر الرواية وصححه في البدائع لإطلاق النهي وقيده الطحاوي بقدر القامة ونفى الكراهة فيما دونه وقال قاضي خان في شرح الجامع الصغير إنه مقدر بذراع اعتبارا بالسترة وعليه الاعتماد وفي غاية البيان وهو الصحيح وفي فتح القدير وهو المختار لكن قال الأوجه الإطلاق وهو ما يقع به الامتياز لأن الموجب وهو شبه الازدراء يتحقق فيه غير مقتصر على قدر الذراع اهـ."

(کتاب الصلاۃ،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، تغميض عينيه في الصلاة، ج: 2، صفحہ: 28، ط:  دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144209200140

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں