بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں بیٹھ کر دنیاوی باتیں کرنا


سوال

 ایک روایت کی تحقیق کا طالب ہوں ،جو مسجد میں دنیاوی بات کرنے سے متعلق بیان کی جاتی ہے اور کتبِ فقہ میں بھی موجود ہے، وہ روایت یہ ہے:

"الکلام في المسجد یأکل الحسنات کما یأکل النار الحطب."

"الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة" میں موجود ہے کہ اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔  آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس روایت کے بارے میں ہمارے اکابرینِ دیوبند کی کیا تحریر وتقریر ہے؟

جواب

ان الفاظ کے قریب قریب ایک روایت سب سےپہلے امام غزالی رحمہ اللہ تعالی (505ھ)نے"إحياء علوم الدين"ميں سندکےبغیر    نقل فرمائی ہے،  جس کے الفاظ یہ ہیں:

"الحديث في المسجد يأكل الحسنات كما تأكل البهائم الحشيش".

(إحياء علوم الدين لأبی حامد الغزالي الطوسي، باب فضیلة المسجد،1/ 152، دار المعرفة  بيروت)

"مسجد میں گفتگو کرنا نیکیوں کو ایسے کھاتا ہے، جیسے جانور گھاس کھاتے ہیں۔"

اکثر محدثین نے ان ہی الفاظ کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے، حافظ عجلونی رحمہ اللہ تعالی( 1162ھ) یہ الفاظ  نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

"والمشهور على الألسنة: الكلام المباح في المسجد يأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب".

( كشف الخفاء ومزيل الإلباس، للعجلوني، حرف الحاء المهملة، 1: 407، المكتبة العصرية، ط: الأولى، 1420ه)

ترجمہ:

"لوگوں کی زبان پر یہ بات  مشہور ہے کہ مسجد میں مباح کلام کرنا نیکیاں ایسے کھاتا ہے، جیسے آگ لکڑیاں کھاتی ہے۔"

سندی حیثیت:

حافظ عراقی رحمہ اللہ تعالی( 806ھ)"إحياء علوم الدين"كی تخریج میں فرماتے ہیں  :

"لم أقف له على أصل".

"       کہ میں اس کی اصل سے مطلع نہیں ہو سکا۔"

(المغني عن حمل الأسفار في الأسفار في تخريج ما في الإحياء من الأخبار لزين الدين العراقي، ص: 180، دار ابن حزم، بيروت، لبنان، ط: الأولى، 1426ه)

علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللہ تعالی (771ھ)"طبقات الشافعية"میں  اس روایت کو"إحياء علوم الدين"کی ان روایات میں نقل فرمایا ہے، جن کی انہیں سند نہیں مل سکی۔

(انظر: طبقات الشافعية الكبرى للسبكي، 6: 294،  هجر للطباعة والنشر والتوزيع، 1413ھ)

اسی بنیاد پر یہ  روایت کئی محدثین نے موضوعات میں نقل فرمائی  ہے،چناں چهعلامہ  محمد بن طاہر پٹنی علیہ الرحمۃ (986ھ)  نے"تذكرة الموضوعات"میں، اورملا علی قاری علیہ الرحمۃ (1014ھ) نے "الأسرار المرفوعة"میں اسے  نقل فرماکر "لم يوجد "كہا ہے   كہ  اس  کی سند نہیں مل سکی۔

(تذکرۃ الموضاعات للفتني، باب فضل المسجد والسراج فيه...الخ، ص: 36، إدارة الطباعة المنيرية، ط: الأولى، 1343ه)

(الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة للملا علي القاري، الرقم: 171، ص: 186،الرقم: 171،مؤسسة الرسالة)

لہذا جب تك اس كی كوئی معتبر سند نہ مل جائے  تب تك اسےکتاب کے حوالہ سے بیان کیا جائے۔

واضح  رہے کہ مسجد ایک مقدس مقام اور خدائی دربار  ہے، جہاں آداب کا خیال رکھنابہت ضروری ہے، اگرچہ ضرورت کی حد تک مباح کلام کی اجازت دی گئی ہے،تاہم مساجد میں شور شرابہ کرنا، آواز بلند کرنا، لڑائی جھگڑے کرنا، اور حلقے لگا کر غیر دینی محفلیں سجانے سے سخت منع فرمایا گیا ہے، بلکہ اسے قیامت کی نشانیوں میں سے بتلاگیا ہے۔

چنانچہ امام حاکم رحمہ اللہ تعالی (405ھ)"المستدرك على الصحيحين "میں صحیح سند سے حضرت انس بن مالک   رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ذکر فرماتے ہیں:

"عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يأتي على الناس زمان يتحلقون في مساجدهم وليس همهم إلا الدنيا ليس لله فيهم حاجة فلا تجالسوهم."

( المستدرك على الصحيحين للحاكم، كتاب الرقاق، الرقم: 7916، 4: 359، دار الكتب العلمية، ط: الأولى، 1411ه) 

ترجمہ:" حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ِ گرامی ہے:  لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اپنی مسجدوں میں حلقے اور محفلیں لگا کر بیٹھیں گے،اور ان کا مقصد خالص دنیا ہی ہو گی، اللہ تعالی کو ان سے کوئی سروکار نہیں ، آپ ان کی محفل اور حلقہ میں شریک مت ہونا۔"

امام حاکم یہ روایت نقل کرنے کےبعد فرماتے ہیں:

" هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه."

"یہ صحیح حدیث ہے اگر چہ امام بخاری اور امام مسلم نے نقل نہیں فرمائی۔ علامہ ذہبی رحمہ اللہ تعالی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔"

( المصدر السابق)

اسی طرح "صحیح البخاري" میں حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ ہے: 

"عن السائب بن يزيد، قال: كنت قائما في المسجد فحصبني رجل، فنظرت فإذا عمر بن الخطاب، فقال: اذهب فأتني بهذين، فجئته بهما، قال: من أنتما - أو من أين أنتما؟ - قالا: من أهل الطائف، قال: «لو كنتما من أهل البلد لأوجعتكما، ترفعان أصواتكما في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم."

( صحيح بخاري، كتاب الصلاة، باب رفع الصوت في المساجد، الرقم: 470، 1: 101، دار طوق النجاة، ط: الأولى، 1422ه)

ترجمہ:" سائب ابن یزید فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں کھڑا تھا کہ اچانک ایک شخص نے کنکر کے ذریعہ مجھے اپنی طرف متوجہ کیا ، جب میں  نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ تھے، انہوں نے فرمایا کہ جاکر ان دوآدمیوں کو میرے پاس لے آؤ، چنانچہ میں لے آیا، آپ نے انہیں فرمایا : تم کون ہو؟ یا فرمایا: کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم  وادی طائف سے آئے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اگر تم شہری ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا، ( کیوں کہ) تم اپنی آوازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بلند کررہے ہو۔"

خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت اگرچہ الفاظ کے اعتبار سے مضبوط سند کے ساتھ ثابت نہیں، لیکن معنی کے اعتبار سے صحیح ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200517

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں