بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں رسم قل کا اعلان کرنا


سوال

کیا مسجد میں رسم قل کا اعلان کرنا جائز ہے؟

جواب

میت کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآنِ کریم پڑھ کر اُسے بخشنا بلاشبہ جائز ہے اور یہ ثواب میت تک پہنچتا ہے، البتہ اس کے لیے کسی خاص وقت کی یا دنوں کی تخصیص کرنا شرعاً درست نہیں، بلکہ بدعت میں شامل ہے۔ اس لیے رسمِ قل، دسواں، چالیسواں یہ سارے امور بدعات میں شامل ہیں اور ان کا انعقاد یا مسجد میں ان کا اعلان کرنا جائز نہیں ہے۔

کفایت المفتی میں ہے :

"رسم قل، دسواں، چالیسواں اور شرینی پر فاتحہ پڑھنا سب بدعت ہے:

(سوال) میت کے لیے تیسرے دن قل و ساتواں و چالیسواں کرنا اور اسقاط میت کا کرانا، جیساکہ آج کل مروج ہے  ایسا کرنا قرآن و حدیث صحیحہ سے ثابت ہے یا نہیں؟ (۲)  فاتحہ بر طعام قبل از کھانے کے پڑھنا قرآن و حدیث  صحیحہ سے ثابت ہے یا نہیں؟

 المستفتی  نمبر  ۱۱۸۸ عبدالعزیز مشین والا ( ضلع سیالکوٹ) ۲۸ جمادی الثانی ۱۳۵۵؁ھ  ۱۶ ستمبر ۱۹۳۶؁ء۔

(جواب ۱۵۸) ایصالِ ثواب جائز ہے، مگر قل اور ساتواں، دسواں، چہلم یہ سب بدعات ہیں۔ اپنی  حیثیت  اور مقدار کے موافق جو کچھ میسر ہو اور جب میسر ہو صدقہ کرکے ثواب بخش دینا چاہیے، اسقاط کا مروجہ طریقہ بھی ناجائز ہے۔ ایصالِ ثواب کے لیے کھانا شیرینی سامنے رکھ کر فاتحہ پڑھنا بے اصل ہے، بلکہ جیسے نقدی وغیرہ  بغیر فاتحہ  صدقہ کردیتے ہیں اسی طرح کھانے شیرینی کے ساتھ بھی معاملہ کرنا چاہیے۔محمدکفایت اللہ کان اللہ لہ‘ دہلی".

(کفایت المفتی 134/4، کتاب الجنائز،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200846

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں