بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں رکھی ہوئی ٹوپیوں میں نماز پڑھنے کا حکم


سوال

مسجد میں جو ٹوپیاں پڑی ہوتی ہیں کیا ان سے نماز جائز ہے کہ نہیں؟ کیوں کہ ہماری طرف کچھ علماءِ کرام کہتے ہیں کہ مسجد میں ثواب کی نیت سے جو ٹوپیاں لوگوں نے رکھی ہوتی ہیں ان ٹوپیوں سے نماز جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ جو ٹوپی پہن کر آپ بازار یا کہیں اور جانے سے کتراتے ہو اور شرم آتی ہو وہی ٹوپی پہن کے مسجد میں اس سے نماز بھی جائز نہیں ہوتی۔ کیا ان ٹوپیوں سے نماز جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

نمازی بحالتِ نماز اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دربار میں ایسے لباس میں حاضر ہونا شرعًا ناپسندیدہ  ہے، جس لباس کو پہن کر معزز مجمع یا مجلس میں حاضر ہونے میں ناگواری ہوتی ہو یا اس کو باعثِ عیب و عار سمجھا جاتا ہو۔ پلاسٹک اور چٹائی کی ٹوپی پہن کر معزز مجمع اور تقریب میں جانے کو معیوب  اور باعثِ عار  سمجھا جاتا ہے؛ اس لیے ایسی ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا اگرچہ جائز ہے، لیکن اس سے نماز مکروہ ہوجائے گی، مزید یہ کہ پلاسٹک وغیرہ کی ٹوپیاں استعمال کی وجہ سے میلی کچیلی بھی ہوجاتی ہیں، اس سے کراہت دوگنی ہوجائے گا، اس لیے ان ٹوپیوں میں نماز پڑھنے کے بجائے  ایسی صاف ستھری ٹوپی پہن کر نماز پڑھنی چاہیے جسے پہن کر آدمی معزز مجلس میں جاسکے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

{یَا بَنِیْ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ}[الأعراف:۳۱]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 641):

"(وصلاته حاسراً) أي كاشفاً (رأسه للتكاسل) ولا بأس به للتذلل، وأما للإهانة بها فكفر.

(قوله: للتكاسل) أي لأجل الكسل، بأن استثقل تغطيته ولم يرها أمراً مهماً في الصلاة فتركها لذلك، وهذا معنى قولهم تهاوناً بالصلاة وليس معناه الاستخفاف بها والاحتقار؛ لأنه كفر، شرح المنية. قال في الحلية: وأصل الكسل ترك العمل لعدم الإرادة، فلو لعدم القدرة فهو العجز".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 640):

"(وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة، إن له غيرها وإلا لا.

(قوله: وصلاته في ثياب بذلة) بكسر الباء الموحدة وسكون الذال المعجمة: الخدمة والابتذال، وعطف المهنة عليها عطف تفسير؛ وهي بفتح الميم وكسرها مع سكون الهاء، وأنكر الأصمعي الكسر، حلية. قال في البحر: وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولايذهب به إلى الأكابر، والظاهر أن الكراهة تنزيهية. اهـ".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200284

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں