بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کرنا


سوال

ہمارے  علاقے میں نمازِ جنازہ کے لیے جگہ نہیں، ایک جگہ ہے وہ ہے پیٹرول پمپ کا میدان، لیکن وہ تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اور ظاہر بات ہے وہاں پر لے جانے میں کچھ مشقت تو ہے ہی، کیوں کہ وہاں لے جانے کے لیے کوئی گاڑی نہیں، اور دوسری جگہ علاقے کی جامع مسجد ہے،  جامع مسجد میں محراب سے آگے میت کی جگہ بنی ہوئی ہے، اب معلوم یہ کرنا تھا ان مذکورہ حالات کے پیشِ نظر جنازہ کس جگہ پڑھنا بہتر رہے گا؟ اور یہ بات بھی ہے کہ مسجد میں نمازِ جنازہ کے حوالے سے آپ کے مسائل اور ان کا حل اور مسائل بہشتی زیور اور احکامِ  میت وغیرہ کتب میں منع کیا گیا ہے؟

جواب

مسجد  میں نمازِ  جنازہ کی تین صورتیں ہیں، اور  حنفیہ کے نزدیک علی الترتیب  تینوں مکروہ ہیں : ایک یہ کہ جنازہ مسجد میں ہو اور امام و مقتدی بھی مسجد میں ہوں۔  دوم یہ کہ جنازہ باہر ہو اور امام و مقتدی مسجد میں ہوں۔  سوم یہ کہ جنازہ امام اور کچھ  مقتدی مسجد سے باہر ہوں اور کچھ مقتدی مسجد کے اندر ہوں۔  اگر کسی عذر صحیح  (مثلًا شدید بارش) کی  وجہ سے مسجد میں جنازہ پڑھا تو  جائز  ہے۔(مستفاد از آپ کے مسائل اور ان کا حل)

لہذا صورتِ  مسئولہ میں  اگر واقعتًا  مسجد  کے  قریب ایسی کوئی جگہ میسر نہیں ہے   جہاں نمازِ  جنازہ ادا کی جاسکے، بلکہ ایک کلو میٹر کے فاصلہ پر  ہی ایسی جگہ ہے، تو  مسجد کے اندر   نمازِ جنازہ ادا کرنے کی گنجائش ہوگی،  تاہم اس کے لیے تیسری صورت ہی اختیار کی جائے، یعنی  جنازہ ،امام اور  کچھ مقتدی محراب سے آگے جو مسجد کے باہر کا حصہ ہے،  وہاں کھڑے ہوں۔

نیز اہلِ علاقہ کو چاہیے کہ وہ مسجد کے علاوہ، جنازہ کے لیے کسی جگہ کا انتظام کریں، اگر مستقل جنازہ گاہ کی گنجائش نہ ہو تو کسی بھی کشادہ جگہ پر نمازِ جنازہ ادا کی جاسکتی ہے، مثلًا: کسی کمیونٹی ہال یا کھیل کے میدان وغیرہ میں۔  اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کا مستقل معمول کھلے میدان (عیدگاہ/ جنازہ گاہ) میں نمازِ جنازہ ادا کرنے کا تھا، اس لیے سنت طریقہ یہ ہے کہ جنازہ  مسجد سے باہر ادا کیا جائے۔

صاحبِ  مظاہر حق شرح مشکاۃ المصابیح علامہ قطب الدین خان دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

"مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا مسئلہ مختلف فیہ ہے ۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تو اس حدیث کے پیش نظر جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی جا سکتی ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مسجد میں نماز جنازہ مکروہ ہے۔ حضرت امام اعظم کی دلیل بھی یہی حدیث ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کہنے پر صحابہ نے اس بات سے انکار کر دیا کہ سعد ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ مسجد میں لایا جائے؛ کیوں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول نہیں تھا کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھتے ہوں، بلکہ مسجد ہی کے قریب ایک جگہ مقرر تھی جہاں آپ صلی اللہ علیہ  وسلم نماز جنازہ پڑھا کرتے تھے۔ پھر یہ کہ اس کے علاوہ ابوداؤد میں ایک حدیث بھی بایں مضمون منقول ہے کہ جو شخص مسجد میں نماز جنازہ پڑھے گا اسے ثواب نہیں ملے گا۔

جہاں تک حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں سہیل اور ان کے بھائی کی نماز جنازہ پڑھی ہے تو اس کے بارہ میں علماء لکھتے ہیں کہ ایسا آپ نے عذر کی وجہ سے کیا کہ اس وقت یا تو بارش ہو رہی تھی یا یہ کہ آپ اعتکاف میں تھے؛ اس لیے  آپ صلی اللہ علیہ  وسلم نے مسجد ہی میں نماز جنازہ ادا فرمائی، چنانچہ ایک روایت میں اس کی صراحت بھی کی گئی ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم چوں کہ اعتکاف میں تھے؛ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی۔"

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 225)

"(واختلف في الخارجة) عن المسجد وحده أو مع بعض القوم (والمختار الكراهة) مطلقًا خلاصة، بناء على أن المسجد إنما بني للمكتوبة، وتوابعها كنافلة وذكر وتدريس علم، وهو الموافق لإطلاق حديث أبي داود «من صلى على ميت في المسجد فلا صلاة له»

أن الصلاة على الميت فعل لا أثر له في المفعول، وإنما يقوم بالمصلي، فقوله من صلى على ميت في مسجد يقتضي كون المصلي في المسجد سواء كان الميت فيه أو لا، فيكره ذلك أخذا من منطوق الحديث، ويؤيده ما ذكره العلامة قاسم في رسالته من أنه روي «أن النبي صلى الله عليه وسلم لما نعى النجاشي إلى أصحابه خرج فصلى عليه في المصلى» قال: ولو جازت في المسجد لم يكن للخروج معنى اهـ مع أن الميت كان خارج المسجد.
وبقي ما إذا كان المصلي خارجه والميت فيه، وليس في الحديث دلالة على عدم كراهته لأن المفهوم عندنا غير معتبر في غير ذلك، بل قد يستدل على الكراهة بدلالة النص، لأنه إذا كرهت الصلاة عليه في المسجد وإن لم يكن هو فيه مع أن الصلاة ذكر ودعاء يكره إدخاله فيه بالأولى لأنه عبث محض ولا سيما على كون علة كراهة الصلاة خشيت تلويث المسجد.
وبهذا التقرير ظهر أن الحديث مؤيد للقول المختار من إطلاق الكراهة الذي هو ظاهر الرواية كما قدمناه، فاغتنم هذا التحرير الفريد فإنه مما فتح به المولى على أضعف خلقه، والحمد لله على ذلك."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 224):

"(وكرهت تحريمًا) وقيل: (تنزيهًا في مسجد جماعة هو) أي الميت (فيه) وحده أو مع القوم.
(واختلف في الخارجة) عن المسجد وحده أو مع بعض القوم (والمختار الكراهة) مطلقا خلاصة."

وفی الرد:

"(قوله: مطلقًا) أي في جميع الصور المتقدمة كما في الفتح عن الخلاصة."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 226):
"إنما تكره في المسجد بلا عذر، فإن كان فلا، ومن الأعذار المطر كما في الخانية."

الفتاوى الهندية (1/ 165):

"والصلاة على الجنازة في الجبانة والأمكنة والدور سواء، كذا في المحيط وصلاة الجنازة في المسجد الذي تقام فيه الجماعة مكروهة سواء كان الميت والقوم في المسجد أو كان الميت خارج المسجد والقوم في المسجد أو كان الإمام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقي في المسجد أو الميت في المسجد والإمام والقوم خارج المسجد هو المختار، كذا في الخلاصة."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201216

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں