بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں موبائل سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا


سوال

موبائل میں قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟ بعض  حضرات مسجد  میں بیٹھ کر بھی جب تلاوت کرتے ہیں تو موبائل میں انسٹال کردہ قرآن مجید ایپلی کیشن کا استعمال کرتے ہیں جب کہ مساجد میں قرآنِ مجید موجود ہوتے ہیں تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

موبائل میں قرآنِ کریم  کی تلاوت کرنا  جائز ہے، اور مسجد میں ہوتے ہوئے بھی موبائل میں دیکھ کر قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ایپلی کیشن کے استعمال کے دوران کسی جان دار کی تصویر یا ویڈیو اشتہار وغیرہ سامنے نہ آئے۔  البتہ موبائل کی اسکرین پر  جہاں  قرآنِ کریم  کھلا ہوا ہو تو  اس  کو  وضو کے بغیر چھونا جائز نہیں ہے، اس کے علاوہ  موبائل کے دیگر حصوں کو  مختلف  اطراف  سے وضو کے بغیر چھونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

باقی قرآنِ مجید مصحف میں دیکھ کر پڑھنا افضل ہے، اس لیے مصحف کو دیکھنا، اس کو چھونا اور اس کو اٹھانا  یہ اس کا احترام ہے، اور اس میں معانی میں زیادہ تدبر کا موقع ملتا ہے، اور یہ سب ثواب کا ذریعہ ہے، ظاہر ہے کہ یہ سب باتیں موبائل میں مکمل  حاصل نہیں ہوتیں، اس لیے جہاں تک ہوسکے مصحف ہی سے پڑھا جائے، اگر کبھی ضرورت ہو تو موبائل سے پڑھ لیں،  ورنہ عام حالات خصوصاً مسجد میں جہاں سہولت سے قرآن میسر بھی ہیں وہاں موبائل کے بجائے مصحف سے قرآنِ مجید پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) يحرم (به) أي بالأكبر (وبالأصغر) مس مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار، وهل مس نحو التوراة كذلك؟ ظاهر كلامهم لا (إلا بغلاف متجاف) غير مشرزأو بصرة به يفتى.

(قوله: أي ما فيه آية إلخ) أي المراد مطلق ما كتب فيه قرآن مجازًا، من إطلاق اسم الكل على الجزء، أو من باب الإطلاق والتقييد. قال ح: لكن لايحرم في غير المصحف إلا بالمكتوب: أي موضع الكتابة، كذا في باب الحيض من البحر، وقيد بالآية؛ لأنه لو كتب ما دونها لايكره مسّه، كما في حيض القهستاني. و ينبغي أن يجري هنا ما جرى في قراءة ما دون آية من الخلاف، و التفصيل المارين هناك بالأولى؛ لأنّ المس يحرم بالحدث ولو أصغر، بخلاف القراءة فكانت دونه، تأمل."

(۱/ ۱۷۳، کتاب الطھارۃ، ط: ایچ ایم سعید)

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"و عن عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفي عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «قراءة الرجل القرآن في غير المصحف ألف درجة، و قراءته في المصحف تضعف على ذلك إلى ألفي درجة».
2167 - (وعن عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفي عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : قراءة الرجل القرآن في غير المصحف) ، أي من حفظه (ألف درجة)، أي ذات ألف درجة أو ثوابها ألف درجة في كل درجة حسنات، قال الطيبي: ألف درجة خبر لقوله قراءة الرجل على تقدير مضاف، أي ذات ألف درجة ليصح الحمل كما في قوله تعالى: {هم درجات} [آل عمران: 163] ، أي ذوو درجات، وأغرب ابن حجر وجعل القراءة عن تلك الألف مجازاً كرجل عدل، فتأمل (وقراءته في المصحف تضعف) بالتذكير والتأنيث مشدد العين، أي يزاد (على ذلك)، أي ما ذكره من القراءة في غير المصحف (إلى ألفي درجة) قال الطيبي: لحظ النظر في المصحف وحمله ومسه وتمكنه من التفكر فيه واستنباط معانيه اهـ يعني أنها من هذه الحيثيات أفضل وإلا فقد سبق أن الماهر في القرآن مع السفرة البررة، وربما تجب القراءة غيبا على الحافظ حفظاً لمحفوظه. قال ابن حجر: إلى غاية لانتهاء التضعيف ألفي درجة لأنه ضم إلى عبادة القراءة عبادة النظر، أي وما يترتب عليها، فلاشتمال هذه على عبادتين كان فيها ألفان، ومن هذا أخذ جمع بأن القراءة نظراً في المصحف أفضل مطلقاً، و قال آخرون: بل غيباً أفضل مطلقاً، ولعله عملاً بفعله عليه الصلاة والسلام، والحق التوسط، فإن زاد خشوعه وتدبره وإخلاصه في إحداهما فهو الأفضل وإلا فالنظر؛ لأنه يحمل على التدبر والتأمل في المقروء أكثر من القراءة بالغيب". (4/ 1487) 

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144109202752

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں