بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں افطاری دسترخوان لگانا/ معتکفین سے نقدی لے کر اجتماعی طور پر افطاری وسحری کا انتظام کرنا


سوال

آپ کی خدمت میں چند بہت ہی ضروری اور اہم مسائل پیش کیےجارہےہیں، برائے مہربانی ان مسائل کے بارے میں تفصیل سے شرعی راہنمائی فرمائیں۔

1- رمضان المبارک میں مساجد میں  افطاری کے لیے جو انتظامات کیے جاتے ہیں، اِن میں روزے دار  کم ہوتے ہیں، اور غیر روزے دار زیادہ ہوتے ہیں، جس میں کرسچن بھی مسجد میں داخل ہوکر روزے داروں کے ساتھ بیٹھ کر افطاری کھاتے ہیں، جن کی پاکی یا ناپاکی کا ہمیں کوئی علم نہیں ہوتا، تو شرعاً افطاری کے ایسے دسترخوان لگانے کا کیاحکم ہے؟

2- ختمِ قرآن کے موقع پر تراویح پڑھانے والے کو نقدی ، پھول یا کپڑے وغیرہ دینا کیساہے؟

3- ختمِ قرآن کے موقع پر عوامی لنگر یا مٹھائی تقسیم کرنا جائز ہے یانہیں؟

4- اعتکاف میں بیٹھنے والوں سے اخراجات( سحری، افطاری کھانے پینے) کی مد میں پیسے لیے جاتے ہیں، شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

1- واضح رہے کہ احادیث میں افطاری کرانے کی بہت  فضیلتیں وارد ہوئی ہیں،ایک حدیث میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایاکہ "جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کرائی، تواس شخص کو روزہ دار جتنا اجر ملےگا"اس بناء پر سڑکوں،شاہراہوں، اور مساجد میں راہ گیروں اور مسافروں کے لیے افطاری کا انتظام کرناباعثِ اجر ہے،البتہ اگر حدودِ مسجد میں افطاری کا انتظام کیاجائے، تو پھر مسجد کے آداب اور طہارت کا خصوصی خیال رکھاجائے،اور فروٹ ،شربت اور دیگر اشیاءِ خور دونوش وغیرہ کو مسجد میں گرنے نہ دیاجائے،اور افطاری کے بعداس جگہ کو جہاں افطاری ہوئی ہو  خوب صاف کیاجائے۔اور جہاں ان شرائط کا خیال نہیں کیا جاتا وہاں مسجد سے باہر مناسب جگہ انتظام کیا جائے تا کہ مسجد کا تقدس پامال نہ ہو۔

2- واضح رہے کہ تراویح میں قرآن سنانے پر اجرت لینادیناجائز نہیں، تاہم اگر قرآن سنانے والے کے ساتھ پہلے سے اجرت طے نہ کی جائے، اور نہ ہی وہ اجرت کی امید سے تراویح پڑھائے اور نہ وہاں اجرت دینے لینے کا رواج ہو، تو اگر لوگ محض ہدیہ کے طور پر تراویح سنانے والے کو کچھ ہدیہ دے  دیں، تو یہ جائزہوگا۔

3- ختمِ قرآن کے موقع پر مٹھائی یا لنگر کے انتظام کے لیےاگر چندہ نہ کیاجائے، اور نہ ہی لنگر اور مٹھائی لانے کو لازم سمجھاجائے، بل کہ ختمِ قرآن کی خوشی میں کوئی اپنی طرف سے اس کا انتظام کرے تو  یہ جائز ہوگا بشرطیکہ مسجد کے تقدس کا خیال رکھا جائے۔

4- اگر مسجد کی انتظامیہ انتظامی لحاظ سے اس میں مسجد کی سہولت اور بہتری سمجھتے ہوں، تو شرعاً معتکفین کی رضامندی سے اُن سے پیسے لے کر اجتماعی طور پر معتکفین کے لیے سحری وافطاری وغیرہ کا انتظام کرنا جائز ہے، تاہم ایسی صورت میں منتظمین پراجتماعی مال میں تصرف کرتے وقت بہت زیادہ احتیاط کرنا ضروری ہوگا۔

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقال أصحابنا: "‌يجوز ‌للذمي ‌دخول سائر المساجد."

(سورة البراءة، ‌‌مطلب: هل يجوز دخول المشرك المسجد، ١١٤/٣، ط:دار الكتب العلمية)

ترمذی میں ہے:

"عن زيد بن خالد الجهني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من فطر صائما كان له مثل أجره، غير أنه لا ينقص من أجر الصائم شيئا»: «هذا حديث حسن صحيح»."

(أبواب الصوم، ‌‌باب ما جاء في فضل من فطر صائما، ١٦٢/٣، ط:شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"وقال الحنفية: لا يمنع الذمي من دخول الحرم، ولا يتوقف جواز دخوله على إذن مسلم ولو كان المسجد الحرام.يقول الجصاص في تفسير قوله تعالى: {إنما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام } : يجوز للذمي دخول سائر المساجد، وإنما معنى الآية على أحد الوجهين: إما أن يكون النهي خاصا في المشركين الذين كانوا ممنوعين من دخول مكة وسائر المساجد، لأنهم لم تكن لهم ذمة، وكان لا يقبل منهم إلا الإسلام أو السيف وهم مشركو العرب. أو أن يكون المراد منعهم من دخول مكة للحج."

(حرف الحاء، ١٨٩/١٧، ط:دارالسلاسل)

العقود الدریۃ میں ہے:

"قال في الهداية الأصل أن ‌كل ‌طاعة ‌يختص ‌بها ‌المسلم ‌لا ‌يجوز ‌الاستئجار ‌عليها ‌عندنا لقوله - عليه الصلاة والسلام - «اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به» إلخ فالاستئجار على الطاعات مطلقا لا يصح عند أئمتنا الثلاثة أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد قال في معراج الدراية وبه قال أحمد وعطاء والضحاك والزهري والحسن وابن سيرين وطاوس والشعبي والنخعي ثم أطال في الاستدلال فراجعه ولا شك أن التلاوة المجردة عن التعليم من أعظم الطاعات التي يطلب بها الثواب فلا يصح الاستئجار عليها؛ لأن الاستئجار بيع المنافع وليس للتالي منفعة سوى الثواب ولا يصح بيع الثواب."

(كتاب الإجارة، ١٢٧/٢، ط:دار المعرفة)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"ختمِ قرآن شریف پر مٹھائی کے لیے چندہ کرنے میں عامۃً حدود کی رعایت نہیں کی جاتی، اس کو لازم سمجھاجاتاہے، چندہ لینے میں زور ڈالاجاتاہے، عار دلائی جاتی ہےکہ فلاں نے کم کر دیا، تفاخر کیاجاتاہے،بعض آدمی مجبوراً قرض لے کر دیتے ہیں، اِن خرابیوں کی وجہ سے اس کو منع کیاجاتاہے۔"

(کتاب الصلوۃ، باب التراویح، ج:7، ص:341)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن أبي حرة الرقاشي، عن عمه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " «ألا لا تظلموا، ألا ‌لا ‌يحل ‌مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في " شعب الإيمان "، والدارقطني في " المجتبى"(" ‌لا ‌يحل ‌مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه."

(کتاب البیوع، باب الغصب و العاریۃ ،  ۵ / ۱۹۷۴، دار الفکر)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"حافظ لوجہ اللہ تراویح پڑھائے، اور مقتدی خوشی سے تعاون کریں، تو جائز ہے، لیکن لینے دینے کا طریقہ رائج ہو گیا ہے؛ اس لیے حافظ کے دل میں لالچ اور حرص پیدا ہوتی ہے، اور نمازیوں کو بھی دینے کی فکر ہوتی ہے؛ لہذا بقاعدہ المعروف کالمشروط معاوضہ( مختانہ) کے حکم میں اور اس کے ہم مثل ہو جاتا ہے؛ اس لیے کراہت سے خالی نہیں، گناہ کا موجب ہے۔"

(کتاب الصلوۃ، مسائلِ تراویح، 345/6، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101273

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں