بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں دورانِ اعتکاف ورزش کرنے کا حکم


سوال

مسجد میں دورانِ اعتکاف ورزش کرنا کیسا ہے؟

جواب

 اعتکاف کے دوران  مسجد میں ورزش کرنا خلافِ ادب ہے،  لہذا بلا عذر  مسجد میں ورزش کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ کسی عذرکی وجہ سے (مثلاً کسی بیماری کے علاج کے لیے ماہر دیندار ڈاکٹر نے  ورزش  تجویز دی ہو)  ورزش  کرنا ہی پڑے توبھی حتی المقدور  مسجد کے آداب اور دوسرے لوگوں کا خیال رکھتے  ہوئےچپکے سے کریں۔ 

فتاویٰ  عالمگیری میں ہے:

"‌رجل ‌يمر في المسجد ويتخذ طريقا إن كان بغير عذر لا يجوز وبعذر يجوز."

(کتاب الصلاۃ، الباب الثامن في صلاة الوتر، ج:1، ص: 110، ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

امداد الاحکام میں ہے :

"مسجد  میں ورزش خلافِ ادب ہے، لہذا زمانۂ اعتکاف میں اس کو ترک کردیں اگر تکلیف نہ ہو، اور اگر تکلیف زیادہ، ناقابلِ برداشت ہو تو بمجبوری خلوت کے وقت کرلیا کریں۔"

(ج 2 / ص 150)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509102180

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں