بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں بلاضرورت سونے کا حکم


سوال

ظہر یاجمعہ کی نمازکے بعد جبکہ کچھ لوگ فرائض اور کچھ نوافل وسنن ادا کررہے ہوں اس دوران مسجد میں سونا جائز ہے؟اگر کوئی شخص مسجد میں سورہاہواورخراٹے لےرہاہوتوکیا وہ گناہگار ہے ؟

جواب

مسجد میں بلا ضرورت سونا مکروہ ہے، خواہ کوئی نماز پڑھ رہا ہو یا نہ پڑھ رہا ہو، اگرنمازی کی نمازمیں خلل کا باعث ہوتو بلا شبہ مسجد میں سونا منع ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص مسافرہواوراس کےلیےکوئی اورجگہ نہ ہویاکسی دینی مصروفیت کےلیےمسجد میں قیام پذیرہو اور وہ ضرورۃً مسجد میں سولے تو مضائقہ نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200361

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں