بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے بورنگ کروانے والے کا اس کنویں سے اپنے بھینسوں کودینا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے مسجد کے لیے بورنگ کرلی،  اب وہ شخص اس بورنگ کے پانی سے اپنے بھینسوں کو پانی دے رہا ہے،  اور اس بھینسوں  کی کمائی کو اپنے استعمال میں لاتا ہے، تو کیا اس کی گنجائش ہے ؟یعنی واقف کے لئے بورنگ سے اپنی بھینسوں کو پانی دینا کیسا ہے ؟ واضح رہے کہ مسجد بھی اسی  مذکور ہ شخص نے بنائی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مسجدکے لیے بورنگ کرنے والے آدمی نے اس شرط پربورنگ یعنی کنواں مسجد کے لیے وقف کیاہو کہ وہ اسے ذاتی استعمال میں بھی لائے گا، تو اس کے لیے مذکورہ کنواں  ذاتی استعمال میں لاناجائز ہے، تاہم اگر کنویں سےپانی نکالنے کے لیے مسجد کی بجلی اور موٹر وغیرہ کا استعمال ہوتاہو،تو اس کے اخراجات  حسبِ استعمال مذکورہ شخص پر عائد ہوں گے۔

اور اگر مسجد کے لیے بورنگ کرتے وقت ذاتی استعمال میں لانے کی شرط نہیں لگائی تھی، تو اب مذکورہ شخص کے لیے اس کنویں کو  ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ہے، اگر چہ مذکورہ مسجد اُس نےبنائی اور وقف کی ہو۔

البحر الرائق میں ہے:

"قوله (وإن جعل الواقف غلة الوقف لنفسه أو جعل الولاية إليه صح) أي لو شرط عند الإيقاف ذلك اعتبر شرطه أما الأول فهو جائز عند أبي يوسف...ولأبي يوسف ما روى أن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان يأكل من صدقته والمراد منها صدقته الموقوفة ولا يحل الأكل منه إلا بالشرط فدل على صحته ولأن الوقف إزالة الملك إلى الله تعالى على وجه القربة على ما بيناه فإذا شرط البعض أو الكل لنفسه فقد جعل ما صار مملوكا لله تعالى لنفسه لا أن يجعل ملك نفسه لنفسه وهذا جائز كما إذا بنى خانا أو سقاية أو جعل أرضه مقبرة وشرط أن ينزله أو يشرب منه أو يدفن فيه ولأن مقصوده القربة وفي الصرف إلى نفسه ذلك قال - عليه السلام - «نفقة الرجل على نفسه صدقة» .

وفي فتح القدير فقد ترجح قول أبي يوسف قال الصدر الشهيد والفتوى على قول أبي يوسف ونحن أيضا نفتي بقوله ترغيبا للناس في الوقف واختاره مشايخ بلخ وكذا ظاهر الهداية حيث أخر وجهه ولم يدفعه."

(كتاب الوقف، ٢٣٨/٥، ط:دار الكتاب الإسلامي)

الدرالمختار میں ہے:

"(وجاز جعل غلة الوقف) أو الولاية (لنفسه عند الثاني) وعليه الفتوى."

(كتاب الوقف، ٣٨٤/١، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508100339

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں