بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے کمرے میں کاروبار کرنا


سوال

 میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک مسجد کا امام ہوں ،حالات کی وجہ سے تنخواہ پر گزارا کرنا مشکل ہوگیا ہے،جس کی وجہ سے میں نے مسجد کے اندر اپنے کمرے میں شہد اور زیتون کی چند بوتلیں بیچنے کے لیے رکھی ہیں ۔

کیا میرے لیے یہ کاروبار جائزہے یا نہیں ؟راہ نمائی فرمائیں ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ عموما ً ایسا کمرہ امام مسجد کی  رہائش  اور ذاتی ضروریات کے لیے ہوتا ہے ،اس لیے سائل  پر لازم ہے کہ اس میں کاروبار کرنے سے احتراز کرے ،البتہ  واقف / کمیٹی والوں  سے اجازت  لے لے ،اور ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اہتمام کرے کہ  کمرے کا دروازہ مسجد کی  اس طرف   میں نہ کھلتا ہو ،جو نماز  کے لیے مختص ہے ، یعنی خرید و فروخت کرنے والوں کو مسجد سے نہ گزرنا پڑے تو  سائل كا  مذکورہ  طریقہ پرکاروبار کرنا   جائز  ہے ۔

کفایت المفتی میں ہے :

’’امام  کا مسجد کے حجرہ میں خریدو فروخت کرنا :

 سوال :مسجد کا امام نمازیان اہل محلہ کی اجازت سے حجرۂ مسجد میں اپنے ذریعہ معاش کے لیے خرید و فروخت کر سکتا ہے یا نہیں ؟مثلا جلد بندی کتب فروشی وغیرہ۔"

(جواب)اگر حجرہ کا دروازہ مسجد کے اس حصے میں نہ کھلتا ہو جو نماز کے لیے مخصوص ہوتا ہے، یعنی خرید و فروخت کرنے والوں کو مسجد سے نہ گزرنا پڑے تو امام کا ایسے کام کرنا مباح  ہے۔ فقط واللہ اعلم ‘‘

(کتاب الصلوۃ ،ج:3،ص:187 ،ط:دارالاشاعت)

فتاویٰ مفتی محمود میں ہے :

’’مسجد کے حجرے کو دکان بنانا :

(ج)مسجد کے حجرے کو نمازیوں کے مشورے سے دکان کی ہیئت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ،بشرطیکہ اس دکان کی وجہ سے فتنہ و فساد برپا نہ  ہو ۔۔۔۔۔‘‘

(کتاب المساجد ،ج:1،ص:531،ط:جمعیت پبلیکیشنز )

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’حجرۂ مسجد میں کتابت :

 اگر کوکوئی  شخص مسجد کی حفاظت کے لیے حجرے میں رہتا ہے ،اور وہاں کتابت بھی کرتا ہے ،تو یہ جائز ہے ؟

الجواب حامدا ومصلیا :

اگر مقصد حفاظتِ مسجد ہے ،تو درست ہے ۔فقط واللہ اعلم ۔‘‘

(باب احکام المساجد ،ج:14،ص:630،ط:ادارۃ الفاروق )

 

وفي فتح القدير للكمال ابن الهمام :

"(ولا بأس بأن يبيع ويبتاع في المسجد من غير أن يحضر السلعة) لأنه قد يحتاج إلى ذلك بأن لا يجد من يقوم بحاجته إلا أنهم قالوا: يكره إحضار السلعة للبيع والشراء. لأن المسجد محرر عن حقوق العباد، وفيه شغله بها، ويكره لغير المعتكف البيع والشراء فيه لقوله - عليه الصلاة والسلام - «جنبوا مساجدكم صبيانكم إلى أن قال وبيعكم وشراءكم»."

(كتاب الصوم ،باب الإعتكاف،2/ 397،ط:دارالفكر)

 وفي الجوهرة النيرة على مختصر القدوري:

"(قوله: ولا بأس أن يبيع ويبتاع في المسجد من غير أن يحضر السلعة)۔۔أما البيع والشراء للتجارة فمكروه للمعتكف وغيره إلا أن المعتكف أشد في الكراهة وكذلك يكره أشغال الدنيا في المساجد كتحبيل القعائد والخياطة والنساجة والتعليم إن كان يعمله بأجرة وإن كان بغير أجرة أو يعمله لنفسه لايكره إذا لم يضر بالمسجد."

 (كتاب الصوم ،باب الإعتكاف،1/ 147،ط:المطبعة الخيرية) 

وفي تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي :

(وكره إحضار المبيع والصمت والتكلم إلا بخير) أما إحضار المبيع وهي السلع للبيع فلأن المسجد محرز عن حقوق العباد وفيه شغله بها وجعله كالدكان۔۔۔۔۔۔ولغير المعتكف يكره البيع مطلقا لما روي أنه - عليه الصلاة والسلام - «نهى عن البيع والشراء في المسجد» رواه الترمذي وعنه - عليه الصلاة والسلام - أنه قال «إذا رأيتم من يبيع أو يبتاع في المسجد فقولوا له لا أربح الله تجارتك» الحديث أخرجه النسائي وقال - عليه الصلاة والسلام - «من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل لا ردها الله عليك»."

(كتاب الصوم ،باب الإعتكاف،1/ 351،ط:دارالكتاب الإسلامي)

وفی الشامیة:

" (وكره) أي تحريما لأنها محل إطلاقهم بحر (إحضار مبيع فيه) كما كره فيه مبايعة غير المعتكف مطلقا للنھی."

 (كتاب الصوم ،باب الإعتكاف،2/ 449،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504100051

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں