بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الاول 1443ھ 27 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی تعمیر کے لیے قادیانی سے رقم لینا


سوال

ہم اپنے گاؤں  جو کہ پنجاب میں ہے ، کی مسجد کی توسیع کر رہے ہیں،  ہم نے واٹس ایپ  کے دوستوں کے گروپس پر اشتہار چلایا تھا،  مختلف لوگوں نے اپنا حصہ ڈالا ،  ان میں سے ایک ڈاکٹر ہے اور امریکا  میں کام کرتا ہے ،  مجھے معلوم ہے کہ وہ قادیانی ہے،  مجھے اخلاقًا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ میں ان کی رقم قبول نہ کروں  ،  کیا ہم اس کی دی ہوئی رقم مسجد میں استعمال کر سکتے ہیں اور اس کے لیے دعا کریں، شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے دے؟

جواب

واضح رہے کہ قادیانیوں کا حکم عام کافروں سے زیادہ سخت ہے اور غیرت دینی کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان ان سے ہر قسم کے تعلق کو ختم کرے،نہ ان سے کسی کا لین دین اور نہ ہی کسی قسم کا تعلق،لہذا صورتِ  مسئولہ میں اوّلًا تو سائل کا مذکورہ قادیانی ڈاکٹر سے تعلق رکھنا اور ان سے مسجد کے چندہ کی درخواست کرنا  شرعًا درست نہیں تھا،  اسی طرح اب ان سے رقم لینے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔کسی بھی مناسب طریقہ سے ان سے معذرت کر لی جائے  اور مستقبل میں اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ ان قادیانی ڈاکٹر سے دوستانہ تعلق نہ رکھے جائیں۔

ہاں مذکورہ ڈاکٹر یا کسی بھی قادیانی کو  حق کی طرف لانے کی کوشش کرنا اور اسی حد تک اس سے تعلق رکھنا جائز ہے، بلکہ تبلیغ و اصلاح کا اجر بھی ہے، اسی طرح قادیانیوں  اور دیگر کفار کی ہدایت کی دعا بھی کرنی چاہیے۔

واضح ہو کہ قادیانی فرقہ مرتد و زندیق ہے، جو اپنے آپ کو مسلمان اور مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کو نبی نہ ماننے والے اہلِ اسلام کوکافر  گردانتا ہے؛ اس لیے تمام مکاتبِ فکر کا متفقہ فتوی ہے کہ قادیانیوں/مرزائیوں سے خریدوفروخت ،تجارت، لین دین، سلام و کلام، ملنا جلنا، کھانا پینا، شادی و غمی میں شرکت، جنازہ میں شرکت، تعزیت،عیادت، ان کے ساتھ  تعاون یا ملازمت سب شریعتِ اسلامیہ میں سخت ممنوع اور حرام ہیں۔ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ ان کو توبہ کرانے میں بہت بڑا علاج اور ان کی اصلاح اور ہدایت کا بہت بڑا ذریعہ اور ہر مسلمان کا اولین ایمانی فریضہ ہے اور رسول اللہ ﷺ  سے محبت کی نشانی ہے۔

جامعہ کے ایک سابقہ فتویٰ (جس پر مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن خان ٹونکی رحمہ اللہ کی تصحیح و تصدیق موجود ہے) میں تحریر ہے:

’’صورتِ مسئولہ میں قادیانی کے لیے امداد دینا بالکل بے کار ہے؛ کیوں کہ قرآنِ پاک میں ہے: {اولئك حبطت اعمالهم} [التوبۃ] اور قادیانی جو کہ کافرِ محارب وموذی ہے اور وہ اپنے آپ کو غیر مسلم ہونے کے باوجود مسلمان سمجھتاہے، اور دوسرے مسلمانوں کو کافر سمجھتاہے، اور اس امداد کے ذریعے مسلمانوں کو قادیانیت کی طرف رغبت دلاتاہے؛ اس لیے کسی مسلمان کے لیے اس بے دین قادیانی کی امداد لینا جائز نہیں ہوگا؛ کیوں کہ اس بے دین قادیانی کی امداد کو قبول کرکے اس بے دین قادیانی کو عزت دینا ہے، اور کافر عزت کے لائق نہیں ہوتا‘‘۔

کتبہ :شفیق الرحمٰن                                                                                                                                      الجواب صحیح: ولی حسن                                                                           الجواب صحیح: ابوبکر سعید الرحمٰن

قال الجصاص الرازي:

’’ وفي هذه الآية دلالة على أنه لاتجوز الاستعانة بأهل الذمّة في أمور المسلمين من العمالات والكتبة‘‘.

(أحكام القرآن للجصاص الرازي، (آل عمران: 118) (2/47) ط: دار الكتب العملمية بيروت)

وفيه أيضاً:

’’ فيه نهي عن الاستنصار بالمشركين؛ لأن الأولياء هم الأنصار‘‘.

(أحكام القرآن للجصاص، (المائدة:57) مطلب في الاستعانة بالمشركين، (2/559) ط: دار الكتب العلمية، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں