بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی مملوکہ زمین پر امام کے لیے گھر بنانے کا حکم


سوال

ایک امام جو اپنے آپ کو مولوی کہتا ہے جس کا علاقہ والوں پراورمسجد کی کمیٹی کے ممبران پر کچھ اثرورسوخ ہے اور جن کو مسجد کی زمین میں اپنے لیے گھر تعمیرکرنے کو کہہ رہاہے جبکہ اس کو معلوم ہے کہ وہ جگہ خلافِ قانون ہے اور جبکہ اس کو رہائش کے لیے پہلے سے گھرفراہم کیا گیا ہے لیکن اس کا اصرارہے کہ خلاف قانون مسجد کی جگہ میں گھراس کے لیے تعمیر کیا جائے تو اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ جگہ مسجد کی ملکیت ہے اور مسجد کے نام پر باقاعدہ لیزالاٹ ہے توایسی صورت میں اس جگہ کو صرف مسجد کی ضروریات میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً وضوخانہ یاامام کا گھروغیرہ جبکہ وہ جگہ نمازکے لیے مخصوص نہ کی گئی ہواورمذکورہ گھرجوامام کوفراہم کیا گیا ہے وہ امام کی رہائشی ضروریات پوری نہیں کرتااور کمیٹی امام کے مطالبہ پراس جگہ امام کے لیے گھر تعمیر کرتی ہے تو اس میں کو ئی حرج نہیں ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200599

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں