بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی افتتاحی تقریب میں عورتوں کی شرکت کا حکم


سوال

مسجد کی تعمیر ہو چکی ہے اور وقت افتتاح ہے تو صرف عورتوں کو اس وقت بلانا کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہےکہ  اس پُر فتن زمانہ  اور پُر آشوب وقت میں عورتوں کا  شرعی اور طبعی ضرورت کے بغیر گھر سے  باہر نکلنا شرعا  جائز نہیں،شریعت کا حکم یہ ہے کہ عورت اپنے گھر میں رہے اور اپنے آپ کو چار دیواری تک محدود رکھے،  آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عورت چھپانے کی چیز ہے،  جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تانک جھانک میں لگ جاتا ہے"، نیز اللہ تعالی نے   قرآنِ پاک میں عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا، اور زمانۂ جاہلیت کے دستور کے موافق  بے پردگی کے ساتھ اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے اور گھومنے پھرنے سے منع کیا ہے، البتہ ضرورتِ شرعی یا طبعی کے مواقع میں عورت کے لیے گھر سے باہر کسی بڑی چادر یا اس کے قائم مقام برقعہ سے اپنے پورے جسم کو ڈھانپ کر نکلنے کی اجازت ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"{وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى}." [الأحزاب : 33]

ترجمہ:" تم اپنے گھر میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو۔"(بیان القرآن)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"وقوله تعالى: وقرن في بيوتكن أي الزمن فلا تخرجن لغير حاجة، ‌ومن ‌الحوائج ‌الشرعية ‌الصلاة ‌في ‌المسجد ‌بشرطه كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تمنعوا إماء الله مساجد الله وليخرجن وهن تفلات» وفي رواية «وبيوتهن خير لهن»."

[سورة الأحزاب، ج:6، ص:363، ط:دار الكتب العلمية]

مفتی محمد شفیع رحمہ اللّٰہ تعالیٰ "  أحکام القرآن" میں فرماتے ہیں :

"قال تعالی : {وقرن في بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاهلیة الأولی}  [الأحزاب :۳۳]فدلت الآیة علی أن الأصل في حقهن الحجاب بالبیوت والقرار بها ، ولکن یستثنی منه مواضع الضرورة فیکتفی فیها الحجاب بالبراقع والجلابیب ... فعلم أن حکم الآیة قرارهن في البیوت إلا لمواضع الضرورة الدینیة کالحج والعمرة بالنص ، أو الدنیویة کعیادة قرابتها وزیارتهم أو احتیاج إلی النفقة وأمثالهابالقیاس، نعم! لا تخرج عند الضرورة أیضًا متبرجةّ بزینة تبرج الجاهلیة الأولی، بل في ثیاب بذلة متسترة بالبرقع أو الجلباب ، غیر متعطرة ولامتزاحمة في جموع الرجال؛ فلا یجوز لهن الخروج من بیوتهن إلا عند الضرورة بقدر الضرورة مع اهتمام التستر والاحتجاب کل الاهتمام ۔ وما سوی ذلک فمحظور ممنوع". ( 3 / 317 - 319 )

یہی وجہ ہے کہ فقہاء کرام نے عورتوں کے نماز ادا کرنے کے لیے بھی مسجد جانے کو مکروہِ تحریمی فرمایا ہے،رسول اللہ ﷺ کے پاکیزہ دور میں بعض مصالح (مثلاً خواتین کے لیے اسلامی عقائد اور اَحکام کی تعلیم) کی خاطر عورتوں کو مسجد میں آکر نماز باجماعت ادا کرنے کی اجازت دی گئی، لیکن خود رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کے لیے اپنے گھر میں بھی جہاں تک ممکن ہو مخفی مقام پر اور چھپ کر نماز پڑھنے کو پسند فرمایا اور اسے ان کے لیے مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنے سے بھی زیادہ فضیلت اور ثواب کا باعث بتایا، چناں چہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک خاتون کمرہ میں نماز پڑھے یہ صحن کی نماز سے بہتر ہے، اور کمرے کے اندرچھوٹی کوٹھہری میں نماز پڑھے، یہ کمرہ کی نماز سے بہتر ہے،پھر رسول اللہ ﷺ کے پردہ فرمانے اور اسلامی احکام کی تکمیل اور تعلیم کا مقصد پورا ہونے کے بعد جب عورتوں کے خروج کی ضرورت بھی نہ رہی اور ماحول کے بگاڑ کی وجہ سے فتنے کا اندیشہ ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورتوں  کو مسجد کی نماز میں حاضر ہونے سے منع فرمادیا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی متفق رہے،بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے اُس دور سے متعلق فرمایا کہ اگر نبی کریم ﷺ یہ حالت دیکھتے جو عورتوں نے اب پیدا کردی ہے تو عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ دیتے،انہیں ضرور منع فرماتے۔

بناء بر ایں جب نماز جیسی عظیم عبادت کے لیے عورتوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں، تو فقط افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے گھر سے نکلنے اور مسجد آنے کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟ لہذا عورتوں کو افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بلانا، اور عورتوں کا شرکت کرنا دونوں نادرست ہیں۔

المستدرک میں ہے:

" عن عبد الله ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها ، وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها".

(المستدرك 405 - (1 / 209))

بخاری شریف میں ہے:

"عن عائشة ، رضي الله عنها ، قالت: لو أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحدث النساء لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل، قلت لعمرة: أو منعن؟ قالت: نعم".

(صحيح البخاري (1 / 219) ط: سعید)

سنن الترمذی میں ہے:

"عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «‌المرأة ‌عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان»: «هذا حديث حسن صحيح غريب»."

[أبواب الرضاع، ج:3،ص:468، ط:مطبعة مصطفي البابي]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1 / 566) ط: سعید:

"(ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقاً) ولو عجوزاً ليلاً (على المذهب) المفتى به؛ لفساد الزمان، واستثنى الكمال بحثاً العجائز والمتفانية".

و في الرد:

"(قوله: ولو عجوزاً ليلاً) بيان للإطلاق: أي شابةً أو عجوزاً نهاراً أو ليلاً (قوله: على المذهب المفتى به) أي مذهب المتأخرين. قال في البحر: وقد يقال: هذه الفتوى التي اعتمدها المتأخرون مخالفة لمذهب الإمام وصاحبيه، فإنهم نقلوا أن الشابة تمنع مطلقاً اتفاقاً. وأما العجوز فلها حضور الجماعة عند الإمام إلا في الظهر والعصر والجمعة أي وعندهما مطلقاً، فالإفتاء بمنع العجائز في الكل مخالف للكل، فالاعتماد على مذهب الإمام. اهـ.

قال في النهر: وفيه نظر، بل هو مأخوذ من قول الإمام، وذلك أنه إنما منعها لقيام الحامل وهو فرط الشهوة بناء على أن الفسقة لاينتشرون في المغرب؛ لأنهم بالطعام مشغولون وفي الفجر والعشاء نائمون؛ فإذا فرض انتشارهم في هذه الأوقات لغلبة فسقهم كما في زماننا بل تحريهم إياها كان المنع فيها أظهر من الظهر. اهـ. قلت: ولايخفى ما فيه من التورية اللطيفة. وقال الشيخ إسماعيل: وهو كلام حسن إلى الغاية (قوله: واستثنى الكمال إلخ) أي مما أفتى به المتأخرون لعدم العلة السابقة فيبقى الحكم فيه على قول الإمام، فافهم". 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409100092

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں