بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی دوکان حجام کو کرایہ پر دینے کا حکم


سوال

مسجد کی دوکان حجّام کو کرایہ پر دینا کیسا ہے؟ جب کہ وہ حجّام داڑھی مونڈنے اور لڑکوں کو غیر اسلامی طریقے پر حجامت کرنے اور میک اپ سے متعلق اعمال بھی کرے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر حجام مسجد کی دوکان میں مذکورہ  کام (داڑھی مونڈنے اور لڑکوں کو غیر اسلامی طریقے پر حجامت کرنے اور میک اپ وغیرہ) بھی کرے گا تو  اس کو  مسجد کی دوکان کرایہ پر دینا مکروہ ہوگا، لہذا مسجد انتظامیہ کو چاہیے کہ حجام کو اس کا پابند کریں کہ وہ  اس دوکان میں غیر شرعی کام  نہ کرے،  ورنہ کسی اور کو دکان کرایہ  پر دے دی جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

’’(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي) ولو أخذ بلا شرط يباح

وفي المنتقى: امرأة نائحة أو صاحبة طبل أو زمر اكتسبت مالا ردته على أربابه إن علموا وإلا تتصدق به، وإن من غير شرط فهو لها: قال الإمام الأستاذ لا يطيب، والمعروف كالمشروط اهـ. قلت: وهذا مما يتعين الأخذ به في زماننا لعلمهم أنهم لا يذهبون إلا بأجر ألبتة ط‘‘.

(کتاب الإجارة، ‌‌باب الإجارة الفاسدة، ج:6، ص:55، ط:سعيد)

الهداية في شرح بداية المبتديمیں ہے:

"قال: "ويكره بيع السلاح في أيام الفتنة" معناه ممن يعرف أنه من أهل الفتنة؛ لأنه تسبيب إلى المعصية وقد بيناه في السير، وإن كان لا يعرف أنه من أهل الفتنة لا بأس بذلك؛ لأنه يحتمل أن لا يستعمله في الفتنة فلا يكره بالشك.

قال: "ولا بأس ببيع العصير ممن يعلم أنه يتخذه خمرا"؛ لأن المعصية لا تقام بعينه بل بعد تغييره، بخلاف بيع السلاح في أيام الفتنة لأن المعصية تقوم بعينه.

قال: "‌ومن ‌أجر ‌بيتا ‌ليتخذ فيه بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر بالسواد فلا بأس به" وهذا عند أبي حنيفة، وقالا: لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية۔"

(کتاب الكراهية، فصل في البيع، ج:4، ص:378، ط:دار احياء التراث العربي)

فتاویٰ مفتی محمود میں ہے:

"(س):کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کی دکان حجّام کو کرایہ پر دینا  جس میں وہ بیٹھ کر لوگوں کی داڑھیاں مونڈے گا، شرعاً جائز ہے یا نہیں  اور دوسری دکانوں کا کیا حکم ہے؟

(ج): جائز ہے لیکن احتیاط کے خلاف ہے، درمختار ص277 ج5 میں ہے(وجاز اجارة بيت بسواد الكوفة) لابغيرها علي الأصح ليتخذ بيت نار او كنيسة او البيت.الخ، وقال شامي تحت هذا القول  لأن الإجارة علي منفعة البيت ولهذا يجب الأجر بجرد التسليم ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستاجر وهو مختار فينقطع نسبته عنه. الخ."

(كتاب المساجد، ج:1، ص:464، ط:اشتیاق اے مشتاق پریس لاہور)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144509100739

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں