بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی دیوار یا جوتوں والی جگہ پر تھوکنا


سوال

کیا مسجد کی دیوار یاجوتوں والی جگہ پر تھوکنا جائز ہے؟

جواب

صفائی ستھرائی ہمارے دین کا حصہ ہے ، رسول اللہ ﷺنے طہارت کو نصف ایمان قرار دیا ہے ، لہذا کسی شخص کا  مسجد کی دیوار یا  جوتوں کی جگہ تھوکنا اخلاق وآداب کے منافی ہے ، اس عمل سے ہر فرد کو اجتناب کرنا چاہیے، تھوکنے کی حاجت ہو تووضو خانہ یا کسی ایسی جگہ تھوکنے کا انتظام کیا جائے جہاں  تھوکنے سے فرش یا دیواریں آلودہ نہ ہوں، نیز تھوکنے میں اس بات کا  ضرور خیال رکھا جائے کہ قبلہ کی طرف ہرگز نہ تھوکیں، کیوں کہ قبلہ کی طرف رخ کرکےتھوکنا  گناہ ہے اور  حدیث میں قبلہ کی طرف رخ کرکے تھوکنے والوں کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔

مسلم شریف میں ہے :

"عن أبى مالك الأشعرى رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « الطهور شطر الإيمان والحمد لله تملأ الميزان. وسبحان الله والحمد لله تملآن - أو تملأ - ما بين السموات والأرض والصلاة نور والصدقة برهان والصبر ضياء والقرآن حجة لك أو عليك كل الناس يغدو فبائع نفسه فمعتقها أو موبقها »."

(ج:1،ص؛140،ط:دارالجیل بیروت)

"ترجمہ: حضرت ابومالک اشعری  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :طہارت نصف ایمان کے برابر ہے اور اَلْحَمْدُ لِلَّهِ میزان(عدل) کو بھر دے گا اورسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ سے زمین و آسمان کی درمیانی فضا بھر جائے گی اور نماز نور ہے اور صدقہ دلیل ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن تیرے لئے حجت ہوگا یا تیرے خلاف ہوگا ۔ہر شخص صبح کو اٹھتا ہے اپنے نفس کو فروخت کرنے والا ہے یا اس کو آزاد کرنے والا ہے۔"

حدیث شریف میں ہے:

"عن زر بن حبيش عن حذيفة، أظنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من تفل تجاه القبلة جاء يوم القيامة تفله بين عينيه، ومن أكل من هذه البقلة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا» ثلاثًا."

" يعني سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے راوی کا خیال ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ' جس شخص نے قبلہ رخ تھوک دیا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا تھوک اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) ہوگا اور جو شخص یہ ناپسندیدہ سبزی (لہسن یا پیاز) کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ پھٹکے"  آپ نے یہ بات تین  دفعہ ارشاد  فرمائی ۔"

(کتاب الاطعمۃ،باب فی اکل  الثوم، الرقم: 3824 ،3/ 360 ،ط: المکتبۃ العصریۃ)

فتح الباری میں ہے :

"وهذا التعليل يدل على أن البزاق في القبلة حرام سواء كان في المسجد أم لا، ولا سيما من المصلي فلايجري فيه الخلاف في أن كراهية البزاق في المسجد هل هي للتنزيه أو للتحريم، وفي صحيحي ابن خزيمة و ابن حبان من حديث حذيفة مرفوعًا: من تفل تجاه القبلة جاء يوم القيامة وتفله بين عينيه."

(كتاب الصلاة،باب حك البزاق باليد من المسجد،1/ 508  ط:دارالمعرفۃ)

فقط واللہ اعلم

 

 


فتوی نمبر : 144507101793

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں