بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی دیوار پر ٹیک لگانا صحیح ہے یا نہیں؟


سوال

مسجد کی دیوار پر ٹیک لگانا صحیح ہے یا نہیں؟ 

جواب

مسجد کی دیوار کی طرف  ٹیک لگانا  جائز ہے ، جناب رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم  اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی  کعبہ شریف کے دیوار کی طرف ٹیک لگانا کا احادیث میں ذکر ہے۔

"عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته، وهو مسند ظهره إلى الكعبة: لا يقتل مسلم بكافر، ولا ذو عهد في عهده ".

أخرجه الامام أحمد في مسنده (11/ 287) برقم (6690)، ط. مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى:1421 هـ =2001 م)

" عن سعيد بن المسيب قال: قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه وهو مسند ظهره إلى الكعبة: من أخذ ضالة فهو ضال"

وفي التعليق الممجد: "قوله: وهو مسند ظهره إلى الكعبة، فيه جواز الجلوس مستندا بالكعبة وبجدار القبلة في المسجد، وجواز جعل الكعبة وجهتها خلفه، وهو ثابت بآثار أخر أيضا".

(الموطا للإمام محمد مع التعليق الممجد: كتاب اللقطة (ص:366)، ط. الميزان كراتشي)

فقط واللہ ٲعلم


فتوی نمبر : 144401101092

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں