بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی بجلی کرایہ دے کر استعمال کرنے کا حکم


سوال

آپ کی ویب سائٹ پر موجود فتوی نمبر :(144112200882) بعنوان : "مسجد کی بجلی سے ذاتی گھر کے لیے کنکشن لینا جائز نہیں"

سوال: کیا مسجد کی لائٹ کوئی بھی شخص اپنے گھر میں استعمال کرسکتا ہے مسجد میں اجرت دےکر؟

جواب: واضح رہے کہ مسجد کی تمام چیزیں وقف ہوتی ہیں، اور وقف چیزوں کو ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں۔ لہذا صورت ِ مسئولہ میں مسجد کی بجلی مسجد عملہ (امام، مؤذن وغیرہ) کے علاوہ کسی شخص کے لیے بھی اپنے ذاتی گھر میں استعمال کرنا جائز نہیں ۔فقظ واللہ اعلم

اور فتاوی مفتی محمود جلد: 1/ 795، مطبع اشتیاق اے مشتاق پریس لاہور میں بعنوان: "مسجد کی بجلی کا رقم دے کر استعمال"

 س : کیا فرماتے ہیں علماء دین درایں مسئلہ کہ کوئی شخص مسجد کی بجلی یا میٹر سے تار چسپاں کر کے اپنے مکان میں روشنی حاصل کرتا ہے اور کہتا ہے جتنا خرچہ ہو سب بل میں ادا کروں گا ۔ کیا یہ فائدہ اٹھانا جائز ہے؟ بینوا توجروا۔

ج:- چوں کہ اس صورت میں مسجد کو فائدہ ہی فائدہ ہے اور اس صورت میں مسجد کے وقف مال کا استعمال بھی لازم نہیں آ رہا ہے، اس لیے متولی کی اجازت سے مسجد کے میٹر وغیرہ سے کنکشن لے سکتا ہے اور اگر متولی اس کی اجازت نہ دے تو کنکشن نہیں لے سکتا ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم

دونوں میں جواب میں تطبیق کی صورت کیا ہوگی؟

جواب

مسجد کا میٹر اگر حکومت کی طرف سے لگا ہوا ہے، تو وه مسجد اور ضروریاتِ مسجد کے لیے خاص ہے، مسجد کی ضروریات یا اسی طرح مصالح مسجد مثلاً امام اور مؤذن کے گھر کے لیے  استعمال كرنا جائز ہے، ليكن کسی دوسرے کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ ایک میٹر حکومت (بجلی انتظامیہ) کی طرف سے جس کے لیے لگایا گیا ہو، اس کے علاوہ کسی دوسرے کو اس سے بجلی فراہم کرنا قانوناً اور شرعاً درست نہیں ہے۔میٹر سے دوسرے کو بجلی دینے پر بجلی بند و منقطع بھی کرلی جاتی ہے یہ مسجد کا نقصان ہے۔

اور اگر مسجد کا بجلی کا اپنا پلانٹ ہو جس سے بجلی پیدا ہوتی ہو اور اسی سے مسجد کو بجلی فراہم کی جاتی ہو اور وہ پلانٹ مسجد اور مسجد کے دیگر مصالح کے لیے وقف کیا گیا ہو اورپیداوار بجلی ضرورت سے زائد ہو، تو ایسی صورت میں مسجد کی بجلی کسی اور کو فراہم کر کے اس کا عوض لینا جائز ہے اور وہ عوض مسجد کی ضروریات اور مصالح میں استعمال کیا جائے گا۔

باقی فتاوی مفتی محمود میں جو مسئلہ مذکور ہے، ممکن ہے کہ وہ اسی دوسری صورت کے متعلق ہو۔

قرآن کریم میں ہے:

وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا. [سورة الإسرآء: 34]

الدر المختار میں ہے:

"قولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل، وإلا أثم لا سيما فيما يلزم بتركها تعطيل الكل من النهر."

(كتاب الوقف، ج:4، ص:433، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506102309

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں