بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کےقریب میں پیشاب خانہ بنانا


سوال

 ایک مسجد ہے اس مسجد کی دیوار سے لگ کر نہیں بلکہ مسجد کی دیوار اور الگ ایک اور دیوار ڈال کر جو مسجد کی دیوار سے ملی ہوئی ہے اس میں پیشاب خانہ بنانا چاہتے ہیں کیا اس طریقہ پیشاب خانہ بنانا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ طریقہ  پر( کہ مسجد کی دیوار سے نہیں بلکہ مسجد کی دیوار اور الگ ایک اور دیوار ڈال کر جو مسجد کی دیوار سے ملی ہوئی ہے اُس میں) پیشاب خانہ بنانا صحیح ہے ۔تاہم درج ذیل امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے  ۔

1.پیشاب خانہ مسجد کے قبلہ والے دیوار کی  جانب نہ ہو۔

2.مسجد کی دیوار تک پیشاب  کےاثرات    سرایت نہ کریں۔

3. پیشاب کی بدبو  مسجد میں محسوس نہ ہو۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

"قال محمد - رحمه الله تعالى -: أكره أن تكون قبلة المسجد إلى المخرج والحمام والقبر، ثم تكلم المشايخ في معنى قول محمد - رحمه الله تعالى -: أكره أن تكون قبلة المسجد إلى الحمام، قال بعضهم: لم يرد به حائط الحمام، وإنما أراد به المحم وهو الموضع الذي يصب فيه الحميم وهو الماء الحار؛ لأن ذلك موضع الأنجاس واستقبال الأنجاس في الصلاة مكروه، فأما إن استقبل حائط الحمام فلم يستقبل الأنجاس."

(الباب الخامس في آداب المسجد، ج:5، ص:319 ط: دار الفكر)

بدائع الصنائع میں ہے :

"ولا يقام شيء من ذلك في المسجد؛ لما روي عن ابن عباس رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا تقام الحدود في المساجد» وهذا نص في الباب؛ ولأن تعظيم المسجد واجب، وفي إقامة الحدود فيه ترك تعظيمه، يؤيده أنا نهينا عن سل السيوف في المساجد، قال: عليه الصلاة والسلام «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم وبياعاتكم وأشريتكم وسل سيوفكم تعظيما للمسجد» و معلوم أن سل السيف في ترك التعظيم دون الجلد والرجم فلما كره ذلك؛ فلأن يكره هذا أولى؛ و لأن ‌إقامة ‌الحدود ‌في ‌المسجد لا تخلو عن تلويثه فتجب صيانة المسجد عن ذلك."

(فصل في شرائط جواز إقامة الحدود ج:7 ص:60 ط:مطبعة الجمالية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

"ذكر الفقيه - رحمه الله تعالى - في التنبيه حرمة المسجد خمسة عشر ...و الرابع عشر أن ينزهه عن النجاسات و الصبيان و المجانين و إقامة الحدود."

‌‌(الباب الخامس في آداب المسجد،ج:5، ص:321 ط: دار الفكر)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144508101204

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں