بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے محراب کے اوپر کعبہ کے دروازے کی تصویر لگانا


سوال

محراب کے اوپر کا جو حصہ ہوتا ہے وہاں پر دروازہ کعبہ کا فوٹو لگا سکتے ہیں؟

جواب

اگر محراب سے اس قدر اوپر ہے کہ نمازی کی نگاہ اس پر نہیں پڑتی ہے جس کی وجہ سے نمازی کادھیان منتشر ہونے کا اندیشہ نہیں ہے تو محراب کے اوپر کعبہ شریفہ کے دروازے کی تصویر لگاسکتے ہیں ، بشرطیکہ اس میں جان دار کی تصویر نہ ہو۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(ولا بأس بنقشه خلا محرابه) فإنه يكره لأنه يلهي المصلي. ويكره التكلف بدقائق النقوش ونحوها خصوصا في جدار القبلة قاله الحلبي. وفي حظر المجتبى: وقيل يكره في المحراب دون السقف والمؤخر انتهى. وظاهره أن المراد بالمحراب جدار القبلة فليحفظ".

وفي الشامية:

"(قوله ولا بأس إلخ) في هذا التعبير كما قال شمس الأئمة: إشارة إلى أنه لا يؤجر، ويكفيه أن ينجو رأسا برأس. اهـ

(قوله لأنه يلهي المصلي) أي فيخل بخشوعه من النظر إلى موضع سجوده ونحوه".

(‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، مطلب: كلمة "لا بأس" دليل على أن المستحب غيره لأن البأس الشدة، 1/ 658، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201785

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں