بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے وقف شدہ جگہ میں مدرسہ بنانے کا حکم


سوال

1۔ مسجد کے لئے وقف شدہ جگہ میں کوئی اور تصرف جائز ہے؟ مثلاً اس جگہ میں مدرسہ بنانا اور مسجد کو کوئی اور جگہ دینا وغیرہ۔

2۔ اگر کسی نے مسجد کے لئے ایک  دومصلے  کی جگہ دی ہو، مثلاً دو تین گز جگہ ہو اور اس کے پاس اور جگہ مسجد کی نہ ہو، تو اس جگہ کو فروخت کرنا کیسا ہے؟ کیوں کہ اتنی چھوٹی جگہ میں مسجد بنانا بھی ممکن نہیں، تو اتنی چھوٹی جگہ کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟

جواب

1۔ واضح رہے کہ وقف قول یعنی زبانی یہ کہہ دینے سے کہ "میں نے یہ جگہ مسجد  کے لیے وقف کی" سے  مکمل ہوجاتاہے، اور  وقف کرنے کے بعد وقف شدہ چیز  واقف (وقف کرنے والے) کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالی کی ملکیت میں چلی جاتی ہے، اس لیے وقف مکمل ہونے کے بعد وقف شدہ  چیز میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا یا اس کو کسی اور مصرف میں استعمال کرنا جائز نہیں ہوتا، لہذا مسجد کے لیے زمین وقف کرنے کے بعد اس میں کوئی اور تصرف کرنا یا اس جگہ میں مدرسہ بنانا جائز نہیں ہے۔

2۔ مسجد کے لیے زمین وقف کرنے کے بعد اس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا یا اس کو بیچنا جائز نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرچہ دو تین گز کی جگہ ہی مسجد کے لیے وقف کی گئی ہو، اس کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ اس کو مسجد کے لیے ہی بر قرار رکھ کر دو تین افراد ہی اس میں نماز پڑھ لیا کریں، ورنہ تو اس جگہ کو اسی طرح رکھ کر مزید جگہ خرید کر مسجد بنالی جائے۔

فتاوی شامی میں ہے :

 "ثم إن أبا يوسف يقول يصير وقفا بمجرد القول لأنه بمنزلة الإعتاق عنده، وعليه الفتوى."

(كتاب الوقف، ج: 4، ص: 338، ط: سعید)

وفيه أيضاً:

"(فاذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن).

قوله: لا يملك أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه."

(کتاب الوقف، ج: 4، ص: 352، ط: سعید)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"إذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف، وصار حبيساً على حكم ملك الله تعالى، ولم يدخل في ملك الموقوف عليه، بدليل انتقاله عنه بشرط الواقف (المالك الأول) كسائر أملاكه وإذا صح الوقف لم يجز بيعه ولا تمليكه ولا قسمته."

(‌‌الباب الخامس: الوقف، ‌‌الفصل الثالث:‌‌ حكم الوقف، ج: 10، ص: 7617، ط: دار الفكر)

فتح القدیر میں ہے:

"(قوله وإذا صح الوقف) أي لزم، وهذا يؤيد ما قدمناه في قول القدوري وإذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف. ثم قوله (لم يجز بيعه ولا تمليكه) هو بإجماع الفقهاء... أما امتناع التمليك فلما بينا) من قوله عليه الصلاة والسلام «تصدق بأصلها لا يباع ولا يورث ولا يوهب»."

(كتاب الوقف، ج: 6، ص: 220، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."

(‌‌كتاب الوقف، ج: 4، ص: 434،433، ط: سعید)

وفيه أيضاً:

"(قوله: ‌وجاز ‌شرط ‌الاستبدال به إلخ) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار كذا حرره العلامة قنالي زاده في رسالته الموضوعة في الاستبدال، وأطنب فيها عليه الاستدلال وهو مأخوذ من الفتح أيضا كما سنذكره عند قول الشارح لا يجوز استبدال العامر إلا في أربع ويأتي بقية شروط الجواز."

(‌‌كتاب الوقف، مطلب في استبدال الوقف وشروطه، ج: 4، ص: 384، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506102233

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں