بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے چندہ کے لیے محلہ کے ہرآدمی پر سالانہ رقم مختص کرنا


سوال

مسجد کے لیے محلے سے ہر آدمی سےمتعین کر کے رقم جمع کرنا کیسا ہے،  مثلاً یہ کہ ہر آدمی کو  ہر سال پانچ سو روپے دینے ہیں؟

جواب

مسجد  یا مسلمانوں کے کسی اجتماعی مفاد کے کاموں کے لیے چندہ کرنا جائز ہے، اور ہر شخص اس میں اپنی خوش دلی سے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈال کر ثواب حاصل کرسکتا ہے، لیکن کسی سے زبردستی یا اخلاقی اور معاشرتی دباؤ ڈال کر چندہ لینا جائز نہیں ہے،حدیثِ مبارک میں کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لینے  کو ناجائز کہا گیا ہے۔

لہذا صورتِ  مسئولہ  میں  مسجد  کے  چندہ  کے لیے محلہ کے ہر فرد پر سالانہ رقم  لازم کردینا اور رقم نہ دینے والوں کو برا بھلا کہنا یا ان پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنا جائز نہیں ہے، کسی کی رضامندی کے بغیر لی ہوئی رقم کو مسجد اور اس کی ضروریات میں خرچ کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔

البتہ محلہ کے لوگ اپنی رضامندی سے سالانہ رقم خود مختص کرلیں  اور کسی مرتبہ وہ نہ دیں تو ان کو برا نہ سمجھا جائے اور اسی طرح محلہ کا کوئی فرد اس میں شریک نہ ہو تو  اس پر زبردستی نہ ہو تو یہ جائز ہے۔

واضح  رہے کہ اگر حکومت کی طرف سے مساجد اور  ان کی ضروریات کے اخراجات فراہم نہ کیے جاتے ہوں تو  ہر مسجد کے اہلِ محلہ میں سے اصحابِ استطاعت لوگوں کو چاہیے کہ وہ  اپنی سعادت سمجھتے ہوئے بطیبِ خاطر مسجد کے اخراجات میں اتنا تعاون کریں کہ مسجد کی ضروریات بسہولت پوری ہوسکیں۔

 قال الله تعالیٰ: {ولاتأکلو أموالکم بينکم بالباطل إلاأن تکون تجارة عن تراض منکم} الآية [النساء:۲۹]

"قال النبي صلی الله علیه وسلم: لايحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه."

(مسند أحمد:۳۴؍۳۹۹ ،رقم:۲۰۶۹۵، ت:شعیب أرناؤط، ط: مؤسسة الرسالة عام۱۴۲۱ھ)

و مسند أبي يعلیٰ:۳؍۱۰۴، رقم:۱۵۰۷، ت:حسین سلیم، ط: دارالمأمون للتراث- دمشق عام۱۴۰۴ھ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202287

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں