بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے بجلی کے پنکھے بیچ کر سولر پنکھے خریدنا


سوال

میں ایک مسجد میں نماز پڑھاتا ہوں اس میں الیکٹرک فینز (یعنی صرف بجلی پر چلنے والے پنکھے لگے ہوئے ہیں)لوڈشیڈنگ انتہائی زیادہ ہونے کی بنا پر(خصوصا اوقات صلوة میں) ہم مذکورہ پنکھے اتار کر ایسے پنکھے لگوانا چاہتے ہیں جو سولر، بیٹری بجلی وغیرہ پر چلیں؛ کیوں کہ گرمیوں کے موسم میں بوجہ لوڈشیڈنگ کے نمازی حضرات بہت تکلیف  میں ہوتے ہیں،دو تین پنکھے ہم نے اتار بھی لیے ہیں اور ان کی جگہ سولر فینز لگائے ہیں جو کہ بجلی پر بھی چلتے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ جو الیکٹرک فین ہم نے اتار لئے ہیں ان کا کیا کیا جائے کیا ان کا فروخت کرنا شرعا درست ہے؟ہم چاہتے ہیں کہ یہ پنکھے بیچ کر پھر انہی پیسوں سے اور مزید کچھ رقم ملا کر دوسرے یعنی سولر والے پنکھے خرید لیں کیا ایسا کرنا ہمارے لئے درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجد  کے  بجلی کے  پنکھےبیچ کر اس کی قیمت کو مسجد  کے لیے سولر پنکھے خریدنے میں لگانا جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وذکر أبو اللیث في نوازله: حصیر المسجد إذا صار خلقاً واستغنی أهل المسجد عنه وقد طرحه إنسان إن کان الطارح حیاً فهو له وإن کان میتاً ولم یدع له وارثاً أرجو أن لا بأس بأن یدفع أهل المسجد إلی فقیر أو ینتفعوا به في شراء حصیر آخر للمسجد. والمختار أنه لایجوز لهم أن یفعلوا ذلک بغیر أمر القاضي، کذافي محیط السرخسي وفي المنتقى بواري المسجد إذا خلقت فصارت لا ينتفع بها فأراد الذي بسطها أن يأخذها ويتصدق بها أو يشتري مكانها أخرى فله ذلك وإن كان غائبا فأراد أهل المحلة أن يأخذوا البواري ويتصدقوا بها بعدما خلقت لم يكن لهم ذلك إذا كانت لها قيمة وإن لم تكن لها قيمة لا بأس بذلك."

(كتاب الوقف، الباب الحادي عشر، الفصل الأول، ج:2، ص:458، ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505101462

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں