بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے اندر اور باہر والوں کے لیے اذان کا جواب دینے کا حکم


سوال

جو لوگ مسجد میں رہتے ہیں ان  لیے اذان کا جواب دینے کا کیا طریقہ ہے، اور کن الفاظ سے اذان کا جواب دیا جائے؟ جیسے کہ تبلیغی جماعت والے مسجد میں ٹھہرے ہیں، وہ کس طرح جواب دیں، اور جو باہر کے لوگ ہیں، وہ کس طرح جواب دیں؟

جواب

واضح رہے کہ اذان درحقیقت نماز کے لیے اعلان ہے، اصل عبادت نماز ہے جو ہر عاقل بالغ مرد و عورت پر فرض ہے، لہٰذا اذان سن کر نماز میں مشغول ہونا ہی اذان کا جواب دینا ہے جو شرعاً واجب ہے، اور زبانی جواب دینا یعنی اذان کے الفاظ دہرانا مستحب ہےجو مسجد کے ا ندر اور باہر والوں کے لیے ایک ہی طریقہ ہے،زبان سے اذان کا جواب دینے کا طریقہ یہ ہے کہ جو الفاظ مؤذن کہے وہی الفاظ دہرائے جائیں اور مؤذن جب  حي على الصلاة اور  حي على الفلاح کہے تو سننے والا ان کے بدلے لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ کہے، اسی طرح فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم کی جگہ صَدَقْتَ وَ بَرَرْتَ کہے۔

اذان کا جواب مکمل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر درود شریف پڑھے اور درج ذیل دعا پڑھے:

"اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدَ نِ الوَسِيْلَةَ وَالفَضِيْلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوَدَ نِ الَّذِيْ وَعَدْتَّهُ".

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اذان سن کر یہ کلمات کہے گا وہ قیامت کے دن میری شفاعت کا مستحق ہوگا۔‘‘ (بخاری، 1/ 126)

مشکات المصابیح میں ہے:

"وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ أَحَدُكُمُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ دخل الْجنَّة» . رَوَاهُ مُسلم".

( باب فضل الأذان و إجابة المؤذن)

"ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ  علیہ  وسلم  نے فرمایا: جب مؤذن "اللّٰه أكبر اللّٰه أكبر" کہے، اور  تم میں سے کوئی اس کے جواب میں "اللّٰه أكبر اللّٰه أكبر" کہے، پھر مؤذن "أشھد أن لا إله  إلا اللّٰه"  کہے، اور یہ شخص  بھی  "أشھد أن لا إله  إلا اللّٰه" کہے،  پھر مؤذن  "أشهد أنّ محمّدًا رسول اللّٰه"  کہے، یہ شخص بھی "أشهد أنّ محمّدًا رسول اللّٰه" کہے، پھر مؤذن "حي على الصلاة"  کہے، یہ شخص  "لا حول ولا قوة  إلا باللّٰه"  کہے،  پھر مؤذن  "حي على الفلاح" کہے، یہ شخص "لا حول ولا قوة  إلا باللّٰه"کہے،  پھر مؤذن  "اللّٰه أكبر اللّٰه أكبر"   کہے، تو یہ شخص بھی  "اللّٰه أكبر اللّٰه أكبر" کہے، پھر مؤذن  "لا  إله إلا اللّٰه" کہے تو یہ شخص صدقِ دل سے  "لا  إله إلا اللّٰه" کہے، تو یہ (جواب دینے والا) جنت میں جائے گا ۔"

وفیہ ایضاً:

"وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ؛ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَاتَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ. رَوَاهُ مُسلم".

(مشکاة، باب فضل الأذان و إجابة المؤذن)

"ترجمہ:  حضرت عبداللہ  بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں:  فرمایا رسول اللہ صلی اللہ  علیہ  وسلم  نے: جب تم مؤذن کو سنو تو تم بھی وہی الفاظ کہو جو وہ کہہ رہا ہے،  پھر مجھ پر درود بھیجو؛ کیوں کہ جو مجھ  پر ایک درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پھر  اللہ سے میرے لیے وسیلہ مانگو وہ جنت میں ایک درجہ ہے جو  اللہ کے بندوں میں سے ایک ہی کے مناسب ہے مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا، جو میرے لیے وسیلہ مانگے اس کے لیے میری شفاعت لازم ہے۔"

ملا علی قاری رحمہ اللہ مشکاۃ کی شرح مرقاۃ میں اس حدیث کی تشریح کے بعد فرماتے ہیں: ’’وفيه إشارة إلى بشارة حسن الخاتمة‘‘ (2/ 561) یعنی اس حدیث میں حسن خاتمہ کی بشارت کی طرف اشارہ ہے۔

واضح رہے کہ اقامت کا جواب بھی اذان کی طرح ہی دیا جائے اور قد قامت الصلاة کی جگہ أَقَامَهَا اللهُ وَ أَدَامَهَا کہے۔ البتہ آخر میں درود شریف اور دعا نہیں پڑھے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

’’و أما بيان ما يجب على السامعين عند الأذان فالواجب عليهم الإجابة، لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «أربع من الجفاء: من بال قائما، و من مسح جبهته قبل الفراغ من الصلاة، و من سمع الأذان و لم يجب، و من سمع ذكري و لم يصل علي»، و الإجابة: أن يقول مثل ما قال المؤذن، لقول النبي صلى الله عليه وسلم: «من قال مثل ما يقول المؤذن غفر الله ما تقدم من ذنبه و ما تأخر»، فيقول مثل ما قاله إلا في قوله: "حي على الصلاة، حي على الفلاح" فإنه يقول مكانه: لا حول و لا قوة إلا بالله العلي العظيم؛ لأن إعادة ذلك تشبه المحاكاة و الاستهزاء، و كذا إذا قال المؤذن: "الصلاة خير من النوم" لا يعيده السامع، لما قلنا، و لكنه يقول: صدقت و بررت، أو ما يؤجر عليه. و لا ينبغي أن يتكلم السامع في حال الأذان و الإقامة، و لا يشتغل بقراءة القرآن، و لا بشيء من الأعمال سوى الإجابة، و لو كان في القراءة ينبغي أن يقطع و يشتغل بالاستماع و الإجابة، كذا قالوا في الفتاوى، والله أعلم.‘‘

(ج:1، ص:155، ط:دار الكتب العلمية)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144508101741

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں