بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے نام پر اکاؤنٹ کھولنے کا حکم


سوال

مسجد کے نام پر بینک میں اکاونٹ کھول سکتے ہیں؟ سیونگ یا کرنٹ، ایم سی بی بینک ہے؟

جواب

 واضح رہےکہ بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہیں ہے ؛اس لیے کہ اس  میں  سودی معاہدہ کرنا پڑتاہے، اور  سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے پر بینک کی طرف سے جو منافع ملتا ہے وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے؛ لہذا مسجد کے نام پر  سیونگ اکاؤنٹ کھولنا جائز نہیں ہے ،البتہ اگر  مسجد کی رقم سنبھالنے میں مشکلات ہوں تو   ضرورت کی بناء پرصرف کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے کی گنجائش ہے۔

درر الحکام میں ہے :

"لأن الثابت بالضرورة ‌يتقدر ‌بقدرها".

(باب الاعتکاف،ج:1،ص:213،داراحیاء الکتب العربیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100625

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں