بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے امام کو زکاة دینا


سوال

ایک مسجد کا امام سرکاری سکول میں استاد ہے اور تنخواہ سے گھر کا خرچہ چلتا ہے۔ بیوی کے پاس زیورات ہیں، لیکن حق مہر میں اس کی ملکیت ہیں، امام کے پاس اپنا موٹرسائیکل ہے جس پر ڈیوٹی کے لیے جاتا ہے اور ایک لیپ ٹاپ جو کہ کمپوزنگ یا ریکارڈ رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگر مقتدیوں سے کوئی اسے زکاۃ یا صدقہ فطر دے تو کیا لے سکتا ہے یا نہیں؟  اگر اس نیت سے لے کہ کسی اور مسکین کو دے دوں تو کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ امام صاحب اگر مستحقِ زکاۃ ہوں تو انہیں زکاۃ دینا اور ان کے لیے زکاۃ لینا جائز ہوگا۔

یعنی ان کے پاس ضروریاتِ زندگی اور استعمال ( یعنی رہنے کا مکان، گھریلو برتن، کپڑے، سواری وغیرہ) کے سامان و اشیاء سے زائد، نصاب کے بقدر (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت کے برابر) مال یا سامان موجود نہ ہو اور وہ سید/ عباسی نہ ہوں، تو وہ زکاۃ کے مستحق قرار پائیں گے، لہذا  ان   کو زکاۃ دینا اور ان کے لیے ضرورت کے مطابق زکاۃ لینا جائز ہوگا؛ بصورتِ دیگر زکاۃ کے حق دار نہ ہوں گے۔

مستحق نہ ہونے کی صورت میں کسی اور کو دینے کی نیت سے زکاۃ وصول کرنا درست نہ ہوگا، البتہ دینے والے کو بتادیں کہ ان کی زکاۃ مستحق تک پہنچانے کے لیے وصول کر رہا ہوں، تو اس کی اجازت ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لَا يَجُوزُ دَفْعُ الزَّكَاةِ إلَى مَنْ يَمْلِكُ نِصَابًا أَيَّ مَالٍ كَانَ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ أَوْ سَوَائِمَ أَوْ عُرُوضًا لِلتِّجَارَةِ أَوْ لِغَيْرِ التِّجَارَةِ فَاضِلًا عَنْ حَاجَتِهِ فِي جَمِيعِ السَّنَةِ هَكَذَا فِي الزَّاهِدِيِّ وَالشَّرْطُ أَنْ يَكُونَ فَاضِلًا عَنْ حَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ، وَهِيَ مَسْكَنُهُ، وَأَثَاثُ مَسْكَنِهِ وَثِيَابُهُ وَخَادِمُهُ، وَمَرْكَبُهُ وَسِلَاحُهُ، وَلَا يُشْتَرَطُ النَّمَاءُ إذْ هُوَ شَرْطُ وُجُوبِ الزَّكَاةِ لَا الْحِرْمَانِ كَذَا فِي الْكَافِي. وَيَجُوزُ دَفْعُهَا إلَى مَنْ يَمْلِكُ أَقَلَّ مِنْ النِّصَابِ، وَإِنْ كَانَ صَحِيحًا مُكْتَسَبًا كَذَا فِي الزَّاهِدِيِّ."

(كتاب الزكوة، الْبَابُ السَّابِعُ فِي الْمَصَارِفِ، ١ / ١٨٩، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110200784

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں