بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مسجد انتظامیہ کا لوگوں کو تراویح سے روکنا


سوال

 موجودہ حالات میں حکومت کی طرف سے مساجد میں نماز، تراویح اور جمعے کی پابندی ختم ہوچکی ہے، اس کے باوجود بھی کچھ مساجد کمیٹیاں لوگوں کو زبردستی تراویح کی نماز کے لیےروک رہی ہیں اور دورانِ تراویح مسجد کے دروازے بند کررہی ہیں، اس صورت میں علاقے کے نمازیوں کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

حکومت کی جانب سے فرض نمازوں اور تراویح کے لیے لوگوں کو اجازت دے دی گئی ہے، لہذامسجد انتظامیہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ لوگوں کو مساجد میں تراویح پڑھنے سے روکے، علاقے کے نمازی مسجد میں تراویح پڑھنے کی کوشش کریں، اگر مسجد انتظامیہ روکے گی تو اس کا وبال مسجد انتظامیہ پر ہوگا۔ فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202635

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں