بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد گھرسے پانچ کلومیٹردورہونے کی صورت میں وہ محلے کی مسجد کہلائے گی یا نہیں؟


سوال

آپ  کے فتوی نمبر 144507100904 میں لکھا ہے کہ "محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا اس مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے جس میں لوگ زیادہ جمع ہوتے ہوں" محلہ کی مسجد سے مراد وہ مسجد ہو گی جو گھر سے سب سے قریب ہو؟ ہمارے گھر سے مسجد تقریباً 5 کلومیٹر دور ہے تو وہ مسجد  محلہ کی مسجد ہوئی  ہمارے لیے  یا نہیں؟

جواب

محلے کی مسجد سے مراد  وہ مسجد ہے جو انسان کے محلے میں ہو اور  محلے  میں متعدد مساجد ہونے کی صورت میں محلے کی مسجد وہ شمار ہوگی جو سب سے اقرب ہو، لیکن اگر کسی شخص کے محلے کی حدود  میں سرے سے مسجد ہی نہ ہوتو ایسی صورت میں   محلے سے باہر کی مسجد کو  اس کے محلے کی مسجد قرار نہیں دیا جائے گا، باقی  صورتِ  مسئولہ  میں    سائل کے گھر سے  مسجد  5 کلو میٹر دور ہے  لیکن اگر  سواری کی سہولت کے ساتھ مسجد آنے جانے کا انتظام موجود ہو تو ایسی صورت میں بھی جماعت کو چھوڑ کر گھر میں نماز پڑھنے کی عادت بنانا درست نہیں ہے، البتہ اگر  ہر نماز کے لیے آنا جانا دشوار ہو اور حرج لاحق ہوتا ہو، تو پھر  گھر میں نمازادا کرناجائز ہوگا، لیکن ایسی صورت میں بھی  بہتر یہی ہے کہ گھر میں بھی جماعت سے ہی نماز ادا کی جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد فشرط ... (و قيل واجبة وعليه العامة) أي عامة مشايخنا وبه جزم في التحفة وغيرها. قال في البحر: وهو الراجح عند أهل المذهب (فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج)

(قوله من غير حرج) قيد لكونها سنة مؤكدة أو واجبة، فبالحرج يرتفع الإثم ويرخص في تركها ولكنه يفوته الأفضل بدليل «أنه عليه الصلاة والسلام قال لابن أم مكتوم الأعمى لما استأذنه في الصلاة في بيته: ما أجد لك رخصة» قال في الفتح: أي تحصل لك فضيلة الجماعة من غير حضورها لا الإيجاب على الأعمى، «لأنه - عليه الصلاة والسلام - رخص لعتبان بن مالك في تركها» اهـ لكن في نور الإيضاح: وإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارها وكانت نيته حضورها لولا العذر يحصل له ثوابها اهـ والظاهر أن المراد به العذر المانع كالمرض والشيخوخة والفلج، بخلاف نحو المطر والطين والبرد والعمى تأمل."

(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج:1، ص: 554، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144507102055

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں