بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد بنانا بہتر ہے یا بھوکے کو کھانا کھلانا


سوال

مسجد بنانا بہتر ہے یا بھوکے کو کھانا کھلانا بہتر ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بھوکے کو کھانا کھلانا،اور مسجد بنانا دونوں اپنی اپنی  جگہ نیک اعمال میں سے ہیں، ہر نیکی میں حصہ لینا چاہیے،لہذا ان میں سے ہر ایک پر عمل کریں،البتہ اجر کے اعتبار سے مسجد بنانا زیادہ ثواب کا کام ہے۔

اس کی چند وجوہات ہیں:

1-مسجد بنانے سے مسلمانوں کی دینی مصلحت متعلق ہے،جب کہ بھوکے کو کھانا کھلانے میں اصلا اس کی دنیاوی ضرورت کو پورا کرنا ہے،اور دینی ضرورت کو پورا کرنا دنیاوی ضرورت کو پورا کرنے سے بہتر ہے۔

2-بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ غیر جاریہ ہے،جب کہ مسجد بنانا صدقہ جاریہ ہے،جب تک مسجد بنی رہے گی،تب تک بنانے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا۔

اسی لیے ان وجوہات کو مد نظررکھتے ہوئے مسجد بنانا عام حالت میں بھوکے کو کھانا کھلانے سے بہتر ہے۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن ‌مما ‌يلحق ‌المؤمن من عمله وحسناته بعد موته علما علمه ونشره، وولدا صالحا تركه، ومصحفا ورثه، أو مسجدا بناه، أو بيتا لابن السبيل بناه، أو نهرا أجراه، أو صدقة أخرجها من ماله في صحته وحياته، يلحقه من بعد موته."

(باب ثواب معلم الناس الخير، ج:1، ص:88، ط:دار إحياء الكتب العربية)

التقریر والتحبیر میں ہے:

"(ويقدم ‌حفظ ‌الدين) من الضروريات على ما عداه عند المعارضة لأنه المقصود الأعظم قال تعالى {وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون} وغيره مقصود من أجله ولأن ثمرته أكمل الثمرات وهي نيل السعادة الأبدية في جوار رب العالمين."

(الباب الخامس في القياس، ج:3، ص:231، ط:دار الكتب العلمية)

مجموع الفتاوی میں ہے:

"الشريعة جاءت بتحصيل المصالح وتكميلها وتعطيل المفاسد وتقليلها فالقليل من الخير خير من تركه ودفع بعض الشر خير من تركه كله وأنها ‌ترجح ‌خير الخيرين وشر الشرين وتحصيل أعظم المصلحتين بتفويت أدناهما وتدفع أعظم المفسدتين باحتمال أدناهما."

(فصل:جامع في تعارض الحسنات؛ أو السيئات؛ أو هما جميعا. إذا اجتمعا، ج:20، ص:47، ط:دار الوفاء)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102763

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں