بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کمیونٹی سینٹر کو مسجد بنانا


سوال

بلڈرز نے اپارٹمنٹ میں کوئی مسجد نہیں بنائی، البتہ وہاں ایک کمیونٹی سینٹر ہے جس کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے ہوتا ہے، مثلاً شادی بیاہ، میلاد، الوداعی پارٹی، کھیل کود، میٹنگ وغیرہ۔ کوئی بھی رہائشی اس کو استعمال کرسکتا ہے، مسلم، غیر مسلم، سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی۔۔۔ کچھ لوگ اس جگہ کو مستقل دیوبندی مسلک کی مسجد بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ عمل قرآن و سنت کی روشنی میں کیسا ہے

جواب

اگر بلڈنگ انتظامیہ کی اجازت ہو تو اس کمیونٹی سینٹر کو مستقل مسجد بنانا شرعاً جائز اور ایک مستحسن امر ہے، کیونکہ مسجد اپنے مقاصد کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہ ہوتی ہے، اس کی مسلکی نسبت انتظامیہ یا نمازیوں کی اکثریت کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے، مسجد دیوبندی یا بریلوی نہیں کہلاتی۔


فتوی نمبر : 143101200652

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں