بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

مسجد اور امامِ مسجد کو صدقہ دینے کا حکم


سوال

کیا مسجد اور امام مسجد کو صدقہ دینا جائز ہے؟

جواب

زکات اور  صدقاتِ واجبہ  کی رقم مسجد میں دینا اور اسے مسجد  میں استعمال کرنا درست نہیں ہے، البتہ نفلی صدقات مسجد میں دینا اور ان کی رقم استعمال کرنا جائز ہے۔ بہتر یہ ہے کہ مسجد میں صرف عطیہ و امداد   کی رقم دی جائے۔

واضح رہے کہ زکات اور صدقاتِ  واجبہ (صدقہ فطر وغیرہ) صرف مستحقِ  زکات افراد کو  ہی دیے جاسکتے ہیں، شرعی اعتبار سے مستحقِ زکات افراد وہ ہیں جو  نہ بنی ہاشم (سید وں یا عباسیوں وغیرہ)  میں  سے ہوں اور  نہ  ہی ان کے پاس   ساڑھے  سات تولہ سونا، یاساڑھے  باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت کے برابر نقد رقم یا مال تجارت  یا اس مالیت کے برابر ضرورت و استعمال سے زائد سامان موجود ہو۔

لہٰذا اگر  امام صاحب مستحقِ  زکات ہوں تو ان کو زکات اور صدقاتِ  واجبہ کی رقم دی جاسکتی ہے بشرطیکہ یہ رقم تنخواہ کی مد میں نہ دی جائے، اور اگر وہ مستحقِ  زکات نہیں ہیں تو ان کو زکات اور صدقاتِ  واجبہ  دینا درست نہیں ہے، بلکہ نفلی  صدقات اور عطیات سے امام مسجد کا تعاون کرنا چاہیے، یہ بہت ہی اجر وثواب کا باعث ہے۔

         فتاوی عالمگیری میں  ہے:

" لايجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار، والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت، كذا في التبيين."

(1/ 188،  کتاب الزکاة، الباب السابع فی المصارف، ط: رشیدیه)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 368):

’’(وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال.

(قوله: في المصارف) أي المذكورة في آية الصدقات إلا العامل الغني فيما يظهر و لاتصح إلى من بينهما أولاد أو زوجية ولا إلى غني أو هاشمي ونحوهم ممن مر في باب المصرف، وقدمنا بيان الأفضل في المتصدق عليه.‘‘

بدائع الصنائع، ۲/48، ط: سعید:

"وأما صدقة التطوع فیجوز صرفها إلی الغنی لأنها تجري مجری الهبة".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200783

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں