بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی دو صفوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہئے؟


سوال

ہم  مسجد تعمیر کر رہے ہیں، جس میں ہم صفوں کا سائز 5 فٹ رکھنا چاہتے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور مبارک میں صفوں کا کیا سائزمقرر تھا اور شریعت کا اس معاملہ میں کیا حکم ہے؟

جواب

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کا فرش  ابتدائی طور پر  صرف مٹی بچھاکر بنایا گیاتھا، بعدازاں بارش ہونے پر کیچڑ سے بچنے کے لیے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  نے کنکریاں بچھائیں اور اس پر نماز پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  اس  فعل کی تحسین فرمائی، باقی رہی یہ بات کہ دو صفوں کےدرمیان فاصلہ کی مقدار کیا ہونی چاہیے، اس بابت اصولی بات یہ ہے کہ دو صفوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہونا چاہئے کہ سجدہ میں جاتے او ر اٹھتے وقت پچھلی صف والوں کے سر اگلی صف والوں کی  پیٹھ سے نہ ٹکرائیں، جس کی مقدار حسب ضرورت کم وبیش چار یا پانچ فٹ ہوسکتی ہے ۔

سیرۃ حلبی میں ہے:

"وسبب وضع الحصا في المسجد أن المطر جاء ذات ليلة فأصبحت الأرض مبتلة، فجعل الرجل يأتي بالحصا في ثوبه فيبسطه تحته ليصلي عليه، فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال: 'ما أحسن هذا' وفي رواية 'ما أحسن هذا البساط ."

(الجزء الثانی، باب الھجرة إلی المدینة، ج:2، ص:102/ 103، ط: دار الکتب العلمیة)

الرحیق المختوم میں ہے:

"وأقيمت حيطانه من اللبن والطين، وجعل سقفه من جريد النخل، وعمده الجذوع،وفرشت أرضه من الرمال والحصباء."

(أدوار الدعوة ومراحلھا، الدورالمدنی، المرحلة الأولی، بناءالمسجد النبوی، ص:160، ط:دار الھلال)

الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان میں ہے:

"قال أنس: فكان فيه ما أقول لكم: كانت فيه قبور المشركين، وكان فيه نخل وحرث - فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقبور المشركين فنبشت،وبالحرث فسويوبالنخل فقطعت."

(کتاب الصلاۃ، باب مایکرہ للمصلی ومالایکرہ، ذکرالبیان بأن القبور إذا نبشت، ج:6، ص:98، ط: مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511100889

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں