بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے امام کو تنخواہ کی مد میں زکوۃ دینے کا حکم


سوال

کیا امام مسجد کو زکوٰۃ  کے   پیسے بطور تنخواہ کے حصے کے دینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے زکوۃ  کی رقم کسی مستحق آدمی  ( یعنی ایسا شخص جو  مسلمان ، غیرسید ہو، غریب یعنی صاحب نصاب نہ ہو)  کو بلاعوض مالک بناکر دینا ضروری ہے، ورنہ زکوۃ  ادا نہیں ہوگی، نیز  یہاں صاحبِ نصاب سے مراد وہ شخص ہے جس کی ملکیت میں ضرورت و استعمال  سے زائد کسی بھی قسم کا اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے سات تولہ سونے یا ساڑھے باون تولہ چاندی میں سے کسی ایک کی مالیت تک پہنچ جائے؛ لہٰذا ایسا شخص جو اتنے مال یا سامان کا مالک ہو  وہ  زکوٰۃ  وصول نہیں کرسکتا۔

بصورتِ مسئولہ مذکوہ امام  تنخواہ وصول کرنے کے باجود اگر مستحق ہوں  تو  زکوۃ کی   مد میں ان کے ساتھ تعاون کیاجاسکتاہے،البتہ زکوۃ کی رقم  تنخواہ کی مد میں دینا جائز نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"ولو نوى الزكاة بما يدفع المعلم إلى الخليفة، ولم يستأجره إن كان الخليفة بحال لو لم يدفعه يعلم الصبيان أيضا أجزأه، وإلا فلا،" 

(كتاب الزكوة، الباب السابع فى المصارف، ج:1، ص:190، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144209201086

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں