بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 رمضان 1442ھ 06 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

مشکوک آمدنی والے کی ہدیہ کردہ چیز کا حکم


سوال

کسی کی آمدنی حلال ہے، مگر اس کے  اخراجات اس کی آمدنی سے زیادہ لگتے ہوں  تو کیا اس خیال سے اس کے پیسوں کو یہ سمجھنا کہ یہ ضرور رشوت لیتے ہوں گے، جب کہ ان کی  دیگر آمدنی کے ذرائع بھی ہمیں معلوم نہ ہوں، اب وہ ریٹائر بھی ہو گئے ہوں، اب کیا ان کے گھر سے آئی ہوئی کوئی چیز کھانا درست ہوگا؟

جواب

کسی مسلمان کے بارے کسی قوی ثبوت کے بغیر بدگمانی کرنا کہ ان کی آمدنی حلال کے علاوہ حرام بھی ہے، شرعی اعتبار سے ناجائز  ہے، ممکن ہے کہ ان صاحب کے بعض ذرائعِ معاش  ایسے ہوں جو آپ کے علم میں نہ ہوں، جیسے آپ نے خود بھی ذکر کیا، نیز ریٹائر منٹ کے بعد مختلف اداروں کی جانب سے پنشن اور اس کے علاوہ بھی رقوم دی جاتی ہیں، اور بہت سے لوگ دورانِ ملازمت اضافی اوقات اور مختلف جگہ خدمات دے کر حاصل ہونے والی آمدن سے کوئی کاروبار شروع کردیتے ہیں یا انویسٹمنٹ کردیتے ہیں، لہذا جب تک کوئی واضح اور مضبوط وجہ نہ ہو، ان کے ذرائع آمدنی کے بارے میں بدگمانی کرنا جائز نہیں اور حلال ذرائع کے ہوتے ہوئے ان کی بھیجی ہوئی چیزوں کو نہ کھانا بھی درست عمل نہیں، نیز حلال ذرائع ہوتے ہوئے خواہ مخواہ ٹوہ میں لگنا بھی جائز نہیں، بلکہ یہ تجسس کے زمرے میں آسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144112200427

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں